قاہرہ میں ریستوران پر حملہ،’ کم از کم 16 ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصر میں محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کیے جانے کے بعد سے سکیورٹی فورسز حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک ریستوران پر آتش گیر مادے سے حملے کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ جمعے کو پیش آیا ہے اور حملے کا نشانہ بننے والا ریستوران عجوزہ نامی مرکزی علاقے میں واقع ہے اور اس میں ایک نائٹ کلب بھی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ریستوران عمارت کے تہہ خانے میں واقع تھا اور یہ لوگوں کے بچ نکلنے میں رکاوٹ ثابت ہوا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اس واقعے میں پانچ افراد زخمی بھی ہوئے جبکہ مرنے والے جلنے اور پھیپھڑوں میں دھواں بھرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔

مقامی اخبار قاہرہ پوسٹ نیوز کا کہنا ہے کہ تین نقاب پوش حملہ آوروں نے آتش گیر مادہ عمارت میں پھینکا اور فرار ہوگئے۔

تاحال کسی گروپ یا فرد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ ایک مشتبہ حملہ آور ریستوران کا سابق ملازم تھا۔

خیال رہے کہ مصر میں سنہ 2013 میں اسلام پسند رہنما محمد مرسی کی حکومت کو برطرف کیے جانے کے بعد سے سکیورٹی فورسز حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔

زیادہ تر یہ حملے سینا کے علاقے میں ہوئے ہیں جہاں کے جنگجوؤں نے شام اور عراق میں بہت سے علاقے پر قابض دولت اسلامیہ کے ساتھ اتحاد کا اعلان کر رکھا ہے۔

تاہم حال ہی میں قاہرہ کے قریبی علاقے سقارہ میں بھی نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے کم سے کم چار سکیورٹی اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں