جرمنی کی پارلیمان نے شام میں فوج بھیجنے کی منظوری دے دی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امکان ہے کہ جرمنی کا بحری بیڑہ فرانسیسی جنگی طیاروں کی مدد کرے گا

جرمنی کی پارلیمان نے شام میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑنے والے امریکی اتحاد کی مدد کرنے کے لیے فوج بھیجنے کی منظوری دے دی ہے۔

دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں فوجی مدد فراہم کرنے کے منصوبے کی حق میں 445 جبکہ اس کی مخلافت میں 146 ووٹ پڑے۔

جرمنی خطے میں جاسوسی کرنے والا ٹورناڈو ہوائی جہاز، ایک بحری جنگی جہاز اور 1200 فوجیوں کو بھیجے گا۔

جرمن کابینہ کی ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف جنگ کی حمایت

جرمنی کا ’دولت اسلامیہ‘ کے خلاف مزید اقدامات کا عزم

جرمنی نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ پیرس میں 12 نومبر کو ہونے والے حملوں کے بعد فرانسیسی صدر فرانسو اولاند کی درخواست پر کیا تھا۔

جرمن وزرا کے خیال میں جرمنی بھی اب دولت اسلامیہ کے نشانے پر ہے۔

واضح رہے کہ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی نے بھی دارالعوام کی منظوری کے بعد شام پر فضائی حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ جرمنی کا کسی دوسرے ملک میں حالیہ سب سے بڑا فوجی آپریشن ہوگا۔اس آپریشن پر ابتدائی طور پر ایک سال تک کام کیا جائے گا اور اس پر 146 ملین ڈالر خرچ ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جرمنی کے ٹورنیڈو طیارے خطے میں جاسوسی کے لیے استعمال کیے جائیں گے

ترکی کے سکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ جمعے کو ترکی نے ’سینکڑوں‘ فوجی دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ عراقی شہر موصل میں عراقی افواج کو تربیت دینے کے لیے تعینات کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جرمنی کی حزب اختلاف بائیں بازو کی جماعت نے اس مشن کو مسترد کیا جبکہ پارلیمان کے زیادہ تر گرین ارکان پارلیمان نے بھی اس کی مخالفت میں ووٹ ڈالے۔

ووٹنگ سے قبل گرین پارٹی کی چیئر وومن سیمون پیٹر نے اقوام متحدہ کی مخصوص قرارداد جو اس مشن کی اجازت دیتی ہے کے حوالے سے اس مشن کی قانونی بنیادوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

تاہم وزیر انصاف ہیکو ماس نے جرمنی کے ایک اخبار کو بتایا کہ انھیں اس مشن کے قانونی طور پر جائز ہونے پر کوئی شک نہیں ہے۔

اسی بارے میں