امریکہ کا مہلک ’گن کلچر‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption گذشتہ ہفتے اوباما کے دورِ صدارت میں 16ویں بار ایسا واقعہ پیش آیا جب کولوراڈو سپرنگز میں خاندانی منصوبہ بندی کے ایک کلینک میں فائرنگ سے تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے

امریکی ایوانِ صدر میں اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر براک اوباما نے جمعرات کو بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات کو 17ویں بار سمجھنے کی کوشش کی۔

اکتوبر کے اوائل سے اب تک امریکی صدر تیسری بار اِس موضوع پر عوام سے مخاطب ہوئے ہیں۔ اُنھوں نے اکتوبر کے آغاز میں اِس وقت بات کی تھی جب ریاست اوریگن کے ایک سکول میں فائرنگ کے واقعے میں نو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوگئے تھے۔

گذشتہ ہفتے اُن کے دورِ صدارت میں 16ویں بار ایسا واقعہ پیش آیا جب کولوراڈو سپرنگز میں خاندانی منصوبہ بندی کے ایک کلینک میں فائرنگ سے تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوگئے۔

اِس بار حملہ آورورں نے کیلیفورنیا کے علاقے سین برنارڈینو میں معذوروں کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا ہے، جس میں حملہ آوروں سمیت 16 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور 17 زخمی ہیں۔

اعداد و شمار

بڑے پیمانے پر فائرنگ: سینٹ برنارڈینو پیش آنے والا یہ واقعہ اِس سال امریکہ میں فائرنگ کا 253واں بڑا واقعہ ہے۔ یہاں بڑے پیمانے پر فائرنگ سے مراد کسی ایک موقعے پر کی جانے والی وہ فائرنگ ہے جس میں حملہ آور سمیت چار یا اُس سے زیادہ لوگ ہلاک یا زخمی ہوئے ہوں۔

(ماخذ: ماس شوٹنگ ٹریکر)

Image caption ہتھیاروں کی تعداد: امریکہ میں آتشیں اسلحے کی اصل تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں ہیں، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ امریکہ کی ایک تہائی آبادی کے پاس 30 کروڑ بندوقیں اور پستول ہیں

سکولوں میں فائرنگ: 2015 میں اب تک سکولوں میں فائرنگ کے 62 واقعات پیش آچکے ہیں۔ 14 دسمبر 2012 کو سینڈی ہُک ایلیمنٹری سکول میں قتل و غارت کے بعد سے اب تک ایسے کُل 161 واقعات پیش آ چکے ہیں۔ البتہ اِن اعداد و شمار میں وہ واقعات بھی شامل ہیں جس میں فائرنگ تو ہوئی ہے لیکن کسی کو نقصان نہیں پہنچا۔

(ماخذ: ایوری ٹاؤن ریسرچ)

فائرنگ کے تمام واقعات: سکولوں میں اور بڑے پیمانے پر فائرنگ کے واقعات تو سرخیوں میں جگہ بنا لیتے ہیں، لیکن امریکہ میں چھوٹے پیمانے پر فائرنگ سے بھی ہلاکتوں کے واقعات بہت زیادہ ہیں اور اکثر یہ رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ امریکہ میں آتشیں ہتھیاروں سے اِس برس اب تک تقریباً 12 ہزار 223 افراد ہلاک اور 24 ہزار 722 زخمی ہوئے ہیں۔

(ماخذ: گن وائلنس آرکائیو)

امریکہ اور دوسرے ملکوں کا تقابل: سنہ 2012 میں امریکہ میں بندوق سے فی کس ہلاکتوں کی تعداد برطانیہ سے 30 گنا زیادہ تھی۔ برطانیہ میں ایک لاکھ میں 0.1 فرد بندوق سے قتل ہوئے جب کہ امریکہ میں یہ تعداد ایک لاکھ افراد میں 2.9 تھی۔

Image caption امریکہ میں آبادی اور ہتھیاروں کی مناسبت سے یہ بات کہی جا سکتی ہے تقریبا ہر مرد، عورت اور بچے کے لیے ایک ہتھیار موجود ہے

سنہ 2012 میں امریکہ میں آتشیں اسلحہ سے ہلاکتوں کی تعداد قتل کے تمام واقعات کا 60 فیصد تھی، اِس کے مقابلے میں کینیڈا میں یہ تعداد 31 فیصد، آسٹریلیا میں 18.2 فیصد ہے، جب کہ برطانیہ میں صرف دس فیصد لوگ آتشیں اسلحے سے قتل ہوئے۔

(ماخذ: یواین او ڈی سی)

گھر کا محاذ: امریکہ میں آتشیں اسلحے سے سالانہ ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ سنہ 1968 اور 2011 کے درمیان امریکہ میں بندوق اور پستول کا نشانہ بننے والے افراد کی تعداد تمام جنگوں میں ہلاک ہونے والے امریکیوں سے تجاوز کر گئی ہے۔ پولیٹی فیکٹ کی تحقیق کے مطابق اِس عرصے کے دوران فائرنگ کے واقعات میں 14 لاکھ افراد مارے گئے ہیں جب کہ اِس کے مقابلے میں جنگِ آزادی سے لے کر عراق جنگ سمیت تمام تنازعات میں امریکیوں کی اموات کی تعداد 12 لاکھ ہے۔

(ماخذ: پولیٹی فیکٹ)

ہتھیاروں کی تعداد: امریکہ میں آتشیں اسلحے کی اصل تعداد کے بارے میں کوئی سرکاری اعداد و شمار نہیں ہیں، لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ امریکہ کی ایک تہائی آبادی کے پاس 30 کروڑ بندوقیں اور پستول ہیں۔ امریکہ کی کل آبادی بھی اس کے لگ بھگ ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ میں ہر مرد، عورت اور بچے کے لیے ایک ہتھیار موجود ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ کے محکمہ انصاف اور خارجہ اُمور کی کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2001 سے لے کر سنہ 2011 کے درمیان امریکہ میں اوسطاً سالانہ 11,385 افراد آتشیں ہتھیاروں کے ذریعے ہلاک ہوتے ہیں

نیشنل رائفل ایسوسی ایشن: امریکی آئین میں دوسری ترمیم کے ذریعے شہریوں کو ہتھیار رکھنے کے اختیار کو تحفظ دیا گیا ہے اور نیشنل رائفل ایسوسی ایشن جیسی تنظیموں کی جانب سے اِس کا ڈٹ کر دفاع کیا جاتا ہے۔ اِس تنظیم کا دعویٰ ہے کہ سینڈی ہک سکول میں فائرنگ کے واقعے کے بعد اُن کے ارکان کی تعداد میں 50 لاکھ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔

بندوقوں سے تشدد اور دہشت گردی: امریکہ خود کو دہشت گردی سے محفوظ بنانے کے لیے دس کھرب ڈالر سے زیادہ سالانہ خرچ کرتا ہے۔ حالانکہ دہشت گردی میں عام بندوق کے جرائم سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے مقابلے میں بہت کم لوگ ہلاک ہوتے ہیں۔

امریکہ کے محکمہ انصاف اور خارجہ اُمور کی کونسل کے اعداد و شمار کے مطابق سنہ 2001 سے لے کر سنہ 2011 کے درمیان امریکہ میں اوسطاً سالانہ 11,385 افراد آتشیں ہتھیاروں کے ذریعے ہلاک ہوتے ہیں۔

جب کہ اِسی عرصے کے دوران دہشت گردی سے سالانہ 517 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اگر اِن واقعات میں سے سنہ 2001 میں ہونے والے دہشت گردی کے بڑے واقعہ نائن الیون (9/11) کو نکال دیا جائے تو یہ تعداد کم ہو کر اوسطاً 31 افراد سالانہ تک رہ جاتی ہے۔

اسی بارے میں