شدت پسند بننا۔۔۔ اور اسے راز رکھنا

تصویر کے کاپی رائٹ ABC NEWS I AP
Image caption سان برناڈینو میں فائرنگ سے پہلے تاشفین ملک نے مبینہ طور پر ’دولت اسلامیہ‘ کی حمایت میں فیس بک پر پیغام لکھا تھا

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی حمایت کے اظہار کے لیے کچھ زیادہ تردد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ فیس بک پر یہ کام باآسانی کر سکتے ہیں۔ تاہم ایک پرتشدد شدت پسند بننا زیادہ پیچیدہ عمل ہے۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سان برناڈینو میں فائرنگ سے پہلے تاشفین ملک نے مبینہ طور پر ’دولت اسلامیہ‘ کے رہنما کی حمایت میں فیس بک پر پیغام لکھا تھا۔

ایف بی آئی حکام ان اطلاعات کی تحقیقات کر رہے کہ کیا انھوں نے شدت پسندوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

اس واقعے کی تفتیش جاری ہے اور تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ 27 سالہ تاشفین ملک اور ان کے 28 سالہ شوہر سید رضوان فاروق کس حد تک شدت پسند تھے اور انھوں نے اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے اپنے منصوبے اور ہتھیار کیسے چھپا کر رکھے۔

ان لوگوں کی کہانی جو آپ کے سامنے شدت پسندی کی جانب مائل ہوگئے تھے، افسوس ناک طور پر نئی نہیں ہے۔

گذشتہ چند دہائیوں کے دوران امریکہ اور مغربی ممالک میں انفرادی طور پر قتل عام کرنے کے واقعے میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق 1970 کی دہائی میں یہ تعداد 30 تھی اور 2000 کی دہائی میں ان کی تعداد 73 تک پہنچ چکی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جوہرتسارنائف سنہ 2013 میں بوسٹن میراتھن کے دوران دھماکوں میں ملوث تھے

ان میں سے کچھ افراد نے اپنا تعلق دولت اسلامیہ یا القاعدہ جیسی تنظیموں کے ساتھ ظاہر کیا تھا جبکہ دیگر افراد اپنے طور پر شدت پسندی کی جانب مائل ہوئے۔

ان لوگوں میں جوہر اور تمرلان تسارنائف جیسے افراد شامل ہیں، جنھوں نے سنہ 2013 میں بوسٹن میراتھن کے دوران دھماکے کیے تھے، جس میں تین افراد ہلاک اور ٢٦٠ زخمی ہوئے تھے۔ اور محمد یوسف عبدالعزیز جنھوں نے ریاست ٹینیسی میں چار فوجیوں کا قتل کیا تھا۔

یہ کہانیاں نہ صرف ظلم پر مشتمل ہیں بلکہ یہ انوکھی بھی ہیں۔

بہت سارے واقعات میں افراد دولت اسلامیہ یا دیگر کسی شدت پسند گروہ کی جانب مائل ہوجاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی زندگیوں سے ناخوش ہوتے ہیں اور کسی ایسے مقصد کی تلاش میں ہوتے ہیں جو ان سے بڑا ہوا۔

مصنف اور انڈیانا سٹیٹ یونیورسٹی کے مارک ہم کہتے ہیں: ’ذاتی مسائل سے شدت پسندی کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے۔ کسی پیارے کی موت، ملازمت کھو دینا۔‘

’عام طور پر سائبر سپیس میں کوئی ایسا ہوتا ہے جو انھیں راستہ دکھاتا ہے۔ اور پہاڑی سے دھکا دیتا ہے۔‘

وہ شاید اس انداز میں شدت پسندی کی جانب مائل ہوتے ہیں کہ کسی کو نظر نہیں آتے۔ کچھ مواقعوں میں وہ چیزیں چھپانے میں بہتر ہوتے ہیں۔

کتاب القاعدہ فیکٹر کی مصنف نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے انٹیلی جنس ڈویژن کے اینالیٹک یونٹ کے سابق ڈائریکٹر مچل سلبر کہتے ہیں: ’اس کے لیے خاص کوشش کی ضرورت ہوتی ہے اور بہت سارے لوگ اپنی زندگی کو ٹکڑوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Chattanooga Police Department
Image caption محمد یوسف عبدالعزیز نے ریاست ٹینیسی میں چار فوجیوں کا قتل کیا تھا

دیگر صورتوں میں ان کے دوست اور رشتے دار پریشان کن تبدیلی کے آثار دیکھتے ہیں اور اسے نظرانداز کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ جہادی گروہوں پر تحقیقن کر نے والے نیو امریکہ فاؤنڈیشن کے ڈیوڈ سٹرمین کہتے ہیں کہ بعض اوقات نظرانداز کرنے کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑتی ہے۔

اگر کوئی دوست کا رشتے دار شدت پسندانہ تبصرے کرے یا دولت اسلامیہ کی حمایت ظاہر کرے تو اس کی نگرانی کرنی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسے جیل بھیجا جا سکتا ’یہاں تک کہ صرف شام جانے کے بارے میں سوچنے پر بھی۔‘

شدت پسند گروہوں کی جانب مائل ہونے والے بیشتر افراد بالآخر اپنی دلچسپی کھو دیتے ہیں اور تعلیمات سے دور ہوجاتے ہیں۔ ان افراد کے لیے محض شدت پسندانہ نعرے لگانا ہی کافی ہوتا ہوتا ہے۔

فورڈہم یونیورسٹی کے سینٹر آن نیشنل سکیورٹی کی ڈائریکٹر کیرن گرین برگ ایک اہم سوال اٹھاتی ہیں: ’آپ عمومی طور پر آن لائن بچوں اور مخصوص باغیوں کے درمیان کیسے تفریق کریں گے؟‘

یہی وہ مسئلہ ہے جس سے انٹیلی جنس حکام نبردآزما ہونے کی کوشش کررہے ہیں کہ خطرہ کہاں پایا جاتا ہے تاکہ وہ ایک اور قتل عام کو روک سکیں۔

اسی بارے میں