’شام میں برطانوی مداخلت غیر قانونی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ روس نے شام میں مداخلت ملک کی اجازت لے کر کی ہے جو ایک ’قانونی‘ طریقہ ہے

شام کے صدر بشارالاسد نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ شام میں برطانیہ کی جانب سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے ’غیر قانونی‘ ہیں۔

انھوں نے برطانوی اخبار ’دا سنڈے ٹائمز‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فضائی حملے صرف ’دہشت گردی کے کینسر‘ کو فروغ دینے میں مدد کریں گے۔

برطانوی فضائی حملوں پر شام میں ملاجلا ردِّعمل

’شام پر برطانوی فضائی کارروائی میں وقت لگے گا‘

صدر اسد نے برطانیہ اور روس کے نقطہ نظر میں فرق کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ روس نے برطانیہ کے برعکس شامی حکمران کی حمایت سے ستمبر میں ملک میں فضائی کارروائی شروع کی تھی۔

صدر بشار الاسد نے کہا کہ ماسکو کے اقدامات یورپ کی حفاظت کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شام میں اپنی مداخلت کے ذریعے صدر اسد کا اقتدار زیادہ مضبوط بنانا چاہتا ہے

برطانیہ نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانا چاہتا ہے جبکہ روس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شام میں اپنی مداخلت کے ذریعے صدر اسد کے اقتدار کو زیادہ مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انٹرویو میں بشار الاسد نے مزید کہا: ’یہ برطانیہ کی جانب سے ایک نقصان دہ اور غیر قانونی قدم ہو گا۔ یہ اقدامات دہشت گردی کو اسی طرح فروغ دیں گے جیسے ایک سال قبل امریکہ کی قیادت میں شروع کی جانے والی فضائی کارروائی کے بعد ہوا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی ایک ’کینسر کی طرح ہے جس سے نمٹنے کے لیے ایک ’جامع‘ حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں زمین پر فوجی کارروائی بھی شامل ہونی چاہیے۔‘

صدر اسد نے یہ بھی کہا کہ ’آپ صرف کینسر کے ایک حصے کو ختم نہیں کر سکتے۔ آپ کو اسے پُورا نکالنا پڑے گا۔ موجودہ کارروائی صرف کینسر کے ایک حصے کو کاٹ کر باہر نکالے گی جو اسے روکے گی نہیں بلکہ مزید زیادہ تیزی سے پھیلائے گی۔‘

بشارالاسد نے فضائی حملوں کے حوالے سے کہا کہ ’آپ دولت اسلامیہ کو صرف فضائی حملوں کے ذریعے نہیں ختم کر سکتے ہیں۔ آپ زمیں پر شامی فوج کے ساتھ تعاون کیے بغیر دولت اسلامیہ کوشکست نہیں دے سکتے ہیں۔ عوام اور حکومت سے منظوری لیے بغیر آپ اس تنظیم کو ختم نہیں کر سکتے ہیں۔‘

یاد رہے کہ دو ستمبر کو برطانوی ارکانِ پارلیمان نے شام میں امریکہ کی قیادت میں فضائی کارروائی میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مارچ سنہ 2011 سے لے کر اب تک شام کے بحران میں دو لاکھ 50 ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں

جمعے کو ملک نے شام میں دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ تیل کے ایک ذخیرے پر فضائی بم حملے کیے تھے۔

برطانوی ارکان پارلیمان نے امریکہ کی قیادت میں شام میں فضائی کارروائی کرنے کا فیصلہ تب کیا جب دولت اسلامیہ نے گذشتہ ماہ پیرس میں سلسلہ وار حملے کیے جن میں 130 فرد ہلاک اور 350 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے گذشتہ ہفتے شام میں فضائی کارروائی کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ شام کی زمین پر 70 ہزار شامی فوجی موجود ہیں جو فضائی حملوں کے ذریعے علاقے کو محفوظ بنانے میں مدد کر سکتے ہیں۔

لیکن صدر بشارالاسد نے ڈیوڈ کیمرون کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انھیں ایک ’ڈھونگ‘ کہا۔

صدر بشار الاسد کے بقول ’کہاں ہیں وہ 70 ہزار فوجی جن کا ڈیوڈ کیمرون نے حوالہ دیا تھا؟ کوئی 70 ہزار فوجی نہیں ہیں۔‘

گذشتہ سال شام میں دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی قیادت میں اتحادی فضائی کارروائی کے بعد ستمبر میں روس نے صدر اسد کی حمایت میں ملک میں بمباری کارروائی شروع کی تھی۔

روس امریکہ کے برعکس دمشق میں موجود حکمران کے تعاون اور مدد کے ساتھ شام میں اپنی فضائی کارروائی کر رہا ہے۔

صدر اسد نے امریکی قیادت میں اتحادی کارروائی کو ’غیر مؤثر‘ کہہ کر اس پر تنقید کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ روس نے شام میں مداخلت ملک کی اجازت لے کر کی ہے جو ایک ’قانونی‘ طریقہ ہے۔

مارچ سنہ 2011 میں شام میں صدر اسد کی حکومت کے خلاف احتجاج کے بحران سے اب تک دو لاکھ 50 ہزار لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں