’حملہ آور جوڑے نے حملے سے قبل نشانہ بازی کی مشقیں کیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ABC News
Image caption حکام کا کہنا تھا کہ وہ دونوں شدت پسندی کی جانب مائل تھے اور ایسا ’کچھ عرصے‘ سے تھا

امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں فائرنگ کرنے والے جوڑے نے حملے سے کئی دن قبل ہدف کو نشانہ بنانے کی مشقیں کی تھیں۔

کیلی فورنیا کے علاقے سان برناڈینو میں ذہنی مسائل اور بیماریوں کا شکار افراد کی مدد کے مرکز پر گذشتہ بدھ کی صبح ہونے والے حملے میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد یہ دونوں حملہ آور پولیس کے ساتھ ہونے والے مقابلے میں مارے گئے تھے۔

’چلے جاؤ یہاں تاشفین نہیں آئی‘

’امریکہ پہنچ کر اہم کام کرنا ہے‘

امریکہ ایسے حملوں سے خوف زدہ نہیں ہوگا: اوباما

ایف بی آئی کے لاس اینجلس دفتر کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ڈیوڈ بوڈچ کا کہنا ہے کہ تاشفین ملک اور ان کے شوہر سید رضوان فاروق لاس اینجلس کے علاقے میں واقع رینجز گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ دونوں شدت پسندی کی جانب مائل تھے اور ایسا ’کچھ عرصے‘ سے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ تاحال ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ حملوں کی منصوبہ بندی بیرون ملک کی گئی تھی

حکام کا کہنا ہے کہ تاحال انھیں ایسے شواہد نہیں ملے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہو کہ حملوں کی منصوبہ بندی بیرون ملک کی گئی تھی۔

ایف بی آئی کی جانب سے سید رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ کی جانب سے معذوروں کے مرکز میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں پر فائرنگ کرنے سے قبل کوئی تفتیش نہیں کی گئی تھی۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انھیں اس جوڑے کے گھر سے 19 پائپ بھی ملے ہیں جس سے بم تیار کیے جاسکتے تھے۔

امریکی نیوز چینل اے بی سی نیوز نے اس جوڑے کی شکاگو کے او ہارے انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 27 جولائی 2014 کو لی گئی تصویر بھی حاصل کی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سید رضوان فاروق سعودی عرب گئے تھے اور دو ہفتے قیام کے بعد تاشفین ملک کے ہمراہ واپس آئے تھے۔

رضوان فاروق کے والد نے ایک اطالوی اخبار لا سٹامپا کو بتایا ہے کہ ان کا بیٹا شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے ساتھ ہمدردی اور اسرائیل کی بارے میں خبط رکھتا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سان برناڈینو میں ذہنی مسائل اور بیماریوں کا شکار افراد کی مدد کے مرکز پر ہونے والے حملے میں 14 افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئے تھے

سید رضوان فاروق کے خاندان کے وکیل کا کہنا تھا کہ انھوں نے کچھ عرصہ قبل انھیں بتایا کہ ان کے ساتھ کام کرنے والوں نے اس کی داڑھی کا مذاق اڑایا تھا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان جانتا تھا کہ ان کے پاس دو ہینڈ گنیں اور دو رائفلیں ہیں۔

تاہم ان کے خاندان کو اس جوڑے کے پاس موجود دیگر اسلحے کے بارے میں علم نہیں تھا۔

دوسری جانب مبینہ طور پر تاشفین ملک نے فیس بک کے ایک دوسرے اکاؤنٹ کے ذریعے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے رہنما سے وفاداری کے بارے میں پوسٹ کی تھی۔

پیر کو امریکی کے محکمہ قانون کا کہنا تھا کہ وہ کیلی فونیا میں ہونے والے حملے کے بعد مسلمان مخالف جذبات یا اس سے ابھرنے والے ممکنہ حملوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں