’دولت اسلامیہ کو اسلحہ عراق سے ملا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایمنسٹی کے مطابق دولت اسلامیہ کے پاس روایتی قسم کے تین فوجی یونٹ ہیں جن میں 40 ہزار سے 50 ہزار جنگجو ہیں

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ جن ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے ان میں سے بیشتر عراقی فوج سے حاصل کیے گئے ہیں۔

ایک تازہ رپورٹ میں ادارے کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال جون میں عراق کے دوسرے سب سے بڑے شہر موصل پر قبضے کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں کے ہاتھ لگا۔

سعودی عرب کو امریکی اسلحہ فروخت کرنے کی منظوری

سعودی عرب کی شامی گروہوں کو ہتھیاروں کی فراہمی تیز

ایمنسٹی نے یہ بھی بتایا کہ سنہ 1980 کی دہائی میں ایران اور عراق کے درمیان ہونے والی جنگ کے زمانے میں عالمی پیمانے پر اسلحے کی بےروک ٹوک تجارت سے بھی دولت اسلامیہ کو فائدہ پہنچا ہے۔

تنظیم نے علاقے میں اسلحے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اسلحے پر مکمل پابندی کی اپیل کی ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق دولت اسلامیہ کے پاس روایتی قسم کے تین فوجی ڈویژن ہیں جن میں 40 ہزار سے 50 ہزار جنگجو ہیں اور وہ جون سنہ 2014 میں حاصل کیے جانے والے ہتھیاروں سے لیس ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ستمبر سنہ 2003 میں عراق کے طول و عرض میں ساڑھے چھ لاکھ ٹن گولے بارود پھیلے ہوئے تھے

ایمنسٹی نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ عراق اور شام میں 25 ممالک کے تیار کردہ ہتھیار استعمال کر رہی ہے جبکہ ایران اور عراق کو ان کی باہمی جنگ کے دوران 28 ممالک نے اسلحہ فراہم کیا تھا۔

حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم نے جہاں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے زیر استعمال ہتھیاروں کا جائزہ لیا ہے وہیں اس نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ عراق کو غیر ذمے دارانہ طور پر برسوں تک اسلحے کی فراہمی اور عراقی حکام کے خراب نظم و نسق نے خطے میں اس کے پھیلاؤ میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 1980 کی دہائی میں دنیا میں فروخت کیا جانے والا 12 فیصد اسلحہ عراق میں پہنچا۔

ایمنسٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی فوج کے تخمینے کے مطابق عراق پر امریکی حملے کے بعد ستمبر سنہ 2003 میں عراق کے طول و عرض میں ساڑھے چھ لاکھ ٹن گولہ بارود ایسا موجود تھا جو غیر محفوظ تھا۔

اسی بارے میں