اب جنیوا کنونشنز کتنے کارآمد رہے ہیں؟

Image caption اب جنیوا کنونشنز کتنے کارآمد رہے ہیں؟

دوسری جنگ عظیم کی ہولناکیوں کے بعد 1949 میں سوئٹزرلینڈ میں عالمی رہنما سر جوڑ کر بیٹھ اور جنیوا کنونشنز پر دستخط کیے۔ جنیوا کنونشنز کی توثیق 196 ممالک نے کی۔ اتنی حمایت کسی اور بین الاقوامی معاہدے کو نہیں ملی ہے۔

جنیوا کنونشنز کا مقصد جنگ کے دوران ہولناکیوں سے بچانا تھا تاکہ انسانیت کو اوشوتس، لینن گراڈ کا محاصرہ یا ڈریزڈن پر بمباری جیسے واقعات کا دوبارہ سامنا نہ کرنا پڑے۔

دستخط کے لیے آنے والے رہنماؤں کو سوئس حکومت نے باور کرایا کہ طویل مدتی ہدف جنگ کو روکنا ہے لیکن فی الحال جنگ کے قوانین ایک مثبت قدم ہے۔

تو اب جنیوا کنونشنز کتنے کارآمد رہے ہیں؟

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ کچھ زیادہ نہیں۔

کنونشنز کی خلاف ورزیاں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’میں نے عملے سے کہا کہ ہسپتال سب سے زیادہ محفوظ جگہ ہے‘

شام سے لے کر یمن تک اور مالی سے آئیوری کوسٹ تک، عراق یا افغانستان تک محاصرے، ہسپتالوں پر حملے، جنسی تشدد اور حراست میں لیے گئے افراد کا قتل جنگی حکمت عملی کا حصہ بن چکے ہیں۔

آئی سی آر سی کے صدر پیٹر مورر کا کہنا ہے کہ ’یہ سب جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزیوں کا سبب بنتی ہیں۔‘

اس ہفتے 196 ممالک انٹرنیشنل ریڈ کراس کانفرنس میں شرکت کریں گے تاکہ اس ٹریٹی کو بہتر بنایا جا سکے۔

بین الاقوامی تنظیم میدیساں ساں فرنتیئرز کی صدر جوآن لیو اس کانفرنس میں ہونے والی بات چیت کو بغور سنیں گی۔ جب اکتوبر میں افغانستان کے شہر قندوز میں ایم ایس ایف کے ہسپتال پر بمباری کی گئی تو جوآن کو یقین نہیں آیا تھا۔

قندوز میں جب لڑائی شدید ہو گئی تو جوآن نے اپنے سٹاف کو یقین دہانی کرائی کہ جنیوا کنونشنز کے مطابق ہسپتالوں کو نشانہ نہیں بنایا جا سکتا اور افغان اور امریکی سکیورٹی فورسز کو ہسپتال کا مقام کا پتہ ہے۔

انھوں نے کہا: ’میں نے سٹاف سے کہا کہ ہسپتال سب سے زیادہ محفوظ جگہ ہے۔‘

لیکن تین اکتوبر کی رات کو ہسپتال پر بمباری کی گئی جس میں ایم ایس ایف کے 13 کارکنوں کے ہمراہ 30 افراد ہلاک ہو گئے۔

اگرچہ امریکہ کا کہنا ہے کہ بمباری غلطی سے ہوئی لیکن جوآن کا کہنا ہے کہ وہ وضاحت چاہتی ہیں کہ ریاستیں اس بین الاقوامی ٹریٹی کو کتی سنجیدگی سے لیتی ہیں۔

’کنونشنز میں وہ سب کچھ ہے جس سے انسانیت جنگوں کے دوران محفوظ رہ سکتی ہے اور ہم اس وقت تک محفوظ رہیں گے جب تک کنونشنز پر عمل درآمد کیا جاتا رہے۔‘

کون سے میدانِ جنگ؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’آج کے دور میں کوئی بھی ملک جنیوا کنونشنز جیسے کنوینشنز پر دستخط نہیں کرے گا‘

لیکن کچھ لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا جدید جنگوں میں جنیوا کنونشنز لاگو ہو سکتے ہیں یا نہیں۔

یہ قوانین اس وقت وضع کیے گئے تھے جب روایتی جنگیں ہوا کرتی تھیں اور ان میں روایتی میدان جنگ ہوتا تھا اور فوجیں لڑا کرتی تھیں۔

لیکن آج کل میدان جنگ کہاں ہیں؟ حلب کے پانی فراہم کرنے والے سٹیشن؟ پیرس کے کنسرٹ ہال؟ اور وہ کون سی فوجیں ہیں جن پر جنیوا کنونشنز لاگو ہوتے ہیں، اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم، شامی فوج، امریکی فضائیہ؟

اوکسفرڈ انسٹیٹیوٹ فار ایتھکس، لا اینڈ آرمڈ کانفلکٹس کے ڈیوڈ روڈن کا کہنا ہے کہ ’اگر آپ مسلح تصادم کے قانون کی تاریخ دیکھیں تو یہ مشترکہ مفاد اور کچھ لو اور دو کی بنیاد پر چلتا ہے۔ دونوں فریقوں کے مفاد میں ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں۔‘

’آپ اس وقت کیا کریں گے جب آپ کا دشمن جنیوا کنونشنز کا احترام نہ کرے؟ اپنے دشمن سے اچھا سلوک کرنے کا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں ہے جب تک وہ بھی جواباً ایسا نہ کرے۔‘

سنہ 2002 میں بش انتظامیہ نے عندیہ دیا کہ جنگی قیدیوں پر جنیوا کنونشنز لاگو نہیں ہوں گے اور ان کو گوانتانامو بے لے جایا جائے گا۔

روڈن کا کہنا ہے ’کچھ چیزوں کا ہمیں خیال رکھنا پڑے گا کیونکہ ہم انسان ہیں اور ہمیں ایسی صورت میں بھی ان کا خیال رکھنا ہو گا اگر فریق نہ بھی خیال کرے۔‘

ناسازگار ماحول؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وہ کون سی فوجیں ہیں جن پر جنیوا کنونشنز لاگو ہوتے ہیں، اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم، شامی فوج، امریکی فضائیہ؟

حالیہ برسوں میں کوئی بین الاقوامی قانون ایسا نہیں بنا جو فائدہ مند ہو اور یہ کوئی اتفاق نہیں ہے کہ سلامتی کونسل کے پانچ میں سے تین مستقل ارکان یعنی امریکہ، روس اور چین نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی توثیق نہیں کی۔

جنیوا یونیورسٹی میں قانون کے پروفیسر مارکو سسولی کا کہنا ہے کہ کسی بھی بین الاقوامی قانون کے لیے موجودہ ماحول سازگار نہیں ہے۔

آج کوئی بھی ملک جنیوا کنونشنز جیسے کنوینشنز پر دستخط نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا ہے کہ جنیوا کنونشنز میں جدت لانے کی کوشش خطرناک ہو گی اور ایسی کوشش ان کنونشنز کو مضبوط کرنے کے بجائے کمزور بنا دے ی۔

اس ہفتے جنیوا کنونشنز کی توثیق کرنے والے ممالک سوئس حکومت اور آئی سی آر سی کی جانب سے تیار کیے گئے مسودے پر بحث کریں گے۔

اس ملاقات میں مخصوص ملکوں یا مخصوص صورت حال پر بات نہیں ہو گی تاکہ مختلف ملک اس کو منفی طور پر نہ لیں۔

یہ سب کچھ مبہم ہے لیکن اگر سوئس حکومت اور آئی سی آر سی شام سے لے کر سعودی عرب، یمن، روس یا امریکہ تک کو ایک کمرے میں بٹھا کر ان کنونشنز کی پاسداری کرنے پر بات کروا سکتے ہیں تو ان کی یہ بڑی کامیابی ہو گی۔