’پیرس حملوں کے سرغنہ یونان میں پولیس سے بچ نکلے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونانی حکام کے خیال میں عبدالحمید اباعود موبائل فون کے ذریعے بیلجیئن سیل چلا رہے تھے

یونان میں پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے پیرس میں ہونے والے حملوں سے قبل جنوری میں ان حملوں کے مبینہ سرغنہ عبدالحمید اباعود کو پکڑنے کی کوشش کی تھی تاہم ان کا یہ آپریشن ناکام رہا تھا۔

بیلجیئم کے انسداد دہشت گردی کے ایک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ بیلجیئم میں چھاپہ مار کارروائیوں سے قبل ایتھنز میں عبدالحمید اباعود کو پکڑنے کے لیے منصوبہ بندی کی گئی تھی تاہم ایسا ممکن نہ ہوسکا۔

دہشت گردی کے خطرات: ’یورپ کی فوری بیداری ضروری‘

’اباعود محاصرے کے وقت بتاکلان کے پاس موجود تھا‘

اباعود کی ہلاکت کے بعد کچھ اہم سولات

عبدالحمید اباعود ایتھیز سے فون کے ذریعے بیلجیئم میں سیل کو ہدایات دے رہے تھے۔

خیال رہے کہ عبدالحمید اباعود 13 نومبر کو پیرس میں حملوں کے پانچ دن بعد فرانسیسی پولیس کے ساتھ مقابلے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ پیرس میں ہونے والے حملوں میں 130 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

یونان کی جانب سے آپریشن بیلجیئم کے مغربی شہر ویویئرز میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے 15 جنوری کو کی جانے والی کارروائی سے قبل کیا جاتا تھا۔ اس کارروائی میں دو مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے تھے۔

یونانی حکام کے خیال میں عبدالحمید اباعود موبائل فون کے ذریعے بیلجیئن سیل چلا رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پیرس میں ہونے والے حملوں میں 130 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی

انسداد دہشت گردی کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک سینیئر بیلجیئن پولیس آفیسر ویویئرز میں کارروائی سے قبل اباوعود کی تلاش کے لیے اپنے یونانی ہم منسب کے ساتھ معاونت کر رہا تھا۔

تاہم یہ تاحال واضح نہیں ہے کہ عبدالحمید اباعود یونان سے کیسے بچ نکلے۔ انھیں ان کے موبائل فون کے سگنلز کے ذریعے پکڑنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ کامیاب نہ ہو سکی۔

یونانی حکام ان تفصیلات کی تصدیق نہیں کر رہے، ان کا صرف یہ کہنا ہے کہ وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔

یونان کی پولیس کی جانب سے صرف ویویئرز میں کارروائی کے دو روز بعد 17 جنوری کو چھاپے مارے گئے۔

اس روز بیلجیئن میڈیا پر یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ انھیں اباعود نامی مراکشی نژاد بیلجیئن شہری کی تلاش ہے جس کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ یونان میں چھپا ہوا ہے۔

یونان میں پولیس نے دو گھروں پر چھاپے مارے تھے۔

ایک الجزائری شخص کو بیلجیئم کے حوالے کیا گیا تھا تاہم اباعود کا پتہ نہ چل سکا۔

اب یہ امر سامنے آیا ہے کہ دونوں گھروں سے ڈی این اے کے حاصل کیے گئے نمونے پیرس میں اباعود کی لاش سے حاصل کیے گئے نمونوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔

ان گھروں کے ایک قریب رہنے والے ایک شخص وسیلس کٹسانوس کا کہنا ہے کہ انھوں نے عبدالحمید اباعود کو کم از کم دو بار گلی میں دیکھا تھا۔

اسی بارے میں