سعودی عرب میں شامی حزبِ اختلاف کا اجلاس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فری سیریئن آرمی (ایف ایس سے) کے درجن بھر باغی گروپ مذاکرات میں شریک ہوں گے

شام کی منقسم حزب اختلاف ممکنہ امن مذاکرات سے قبل اتفاق رائے قائم کرنے کے لیے منگل کو ریاض میں مذاکرات کر رہی ہے۔

اجلاس کا مقصد حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک متفقہ نقطۂ نظر پر بحث کرنا ہے جس میں مسلح اور سیاسی تنظیمیں ایک صفحے پر ہوں۔

طاقتور باغی تنظیم جیش الاسلام کا کہنا ہے کہ وہ سعودی مذاکرات میں شریک ہو گی۔

ویانا میں عالمی طاقتوں کے اجلاس میں خواہش کی گئی تھی کہ جنوری سے شامی حکومت اور حزبِ اختلاف کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو۔

شام کی حزب اختلاف کی مختلف تنظیموں کے درمیان موجودہ تقسیم نے سفارت کاری کو زک پہنچائی ہے۔

تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ ریاض میں ہونے والے اجلاس سے مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں۔ ایران ویانا مذاکرات میں شریک تھا اور اُس نے شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت کی تھی۔

شام کے دارلحکومت دمشق کے قریب جیش الاسلام ایک مشہور مسلح اپوزیشن جماعت ہے، جس کی زیادہ تر حکمرانی مشرق میں غوطہ کے مضافات میں قائم ہے۔

لیکن تنظیم کے کمانڈر ظہران العوش مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔ اطلاعات کے مطابق اُن کے جنگجوؤں کے ہاتھ سے اُس سڑک کا کنٹرول چلاگیا ہے جس کے ذریعے سے وہ دمشق سے باہر نکلنے کا سوچ رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption النصرہ فرنٹ اور خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم اِن مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے

فری سیریئن آرمی (ایف ایس سے) کے درجن بھر باغی گروپ مذاکرات میں شریک ہوں گے۔ جس میں امریکی حمایت یافتہ جماعتیں بھی شریک ہیں جنھیں غیر ملکی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ایف ایس اے سے تعلق رکھنے والی ایک تنظیم کے سربراہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’سعودی عرب اِس خطے کا اہم ملک ہے اور شامی حزب اختلاف کی تنظیموں کی میزبانی کے اِس اقدام سے حقیقی نتائج ملیں گے۔‘

القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرہ فرنٹ کے ساتھ مل کر لڑنے والے گروپ احرار الشام کو بھی مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے لیکن اُس نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا۔

تاہم النصرہ فرنٹ اور خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی تنظیم اِن مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔

شامی کرد باغی امریکی مدد کے ساتھ دولت اسلامیہ کے خلاف برسرپیکار ہیں اور شمالی شام کے بڑے حصے پر اُس کا کنٹرول ہے۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ اُنھیں مذاکرات کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

شام میں کردوں کے زیر اثر علاقوں میں سے ایک کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کردوں کی شمولیت کے بغیر سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات کا ’مقدر ناکامی ہے۔‘

اسی بارے میں