امریکہ نے سنگاپور میں پی ایٹ جاسوس طیارہ تعینات کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ طیارے پہلے سے جاپان اور فلپائن میں موجود ہیں

امریکہ نے بحیرۂ جنوبی چین میں چین کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے تناظر میں پہلی بار سنگاپور میں اپنا جاسوسی طیارہ پی ایٹ پوسائڈن تعینات کیا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ پی ایٹ جاسوس طیارے کے علاوہ سنگاپور کے فضائی اڈے پایا لیبار میں مستقبل میں فوجی جاسوس طیارہ تعینات کرے گا۔

چین کی جانب سے بحیرہ جنوبی چین میں جزیروں کی تعداد بڑھانے پر امریکہ سمیت دیگر ممالک پریشان ہیں۔

واشنگٹن کا خیال ہے کہ چین متنازع ملکیت والے علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے عسکری طاقت میں اضافہ کر رہا ہے جبکہ چین کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کے استحکام کے لیے اُس کے اقدامات جائز ہیں۔

’امریکی جہاز جنوبی بحیرۂ چین سے گزرتے رہیں گے‘

چین کی امریکہ کو’اشتعال انگیز‘ اقدام پر تنبیہ

امریکہ کے پی ایٹ جاسوس طیارے پہلے ہی جاپان اور فلپائن میں موجود ہیں جبکہ نگرانی کے لیے فضائی مشن ملائیشیا سے پروازیں کرتے ہیں۔

امریکہ کے مطابق پیر کو سنگاپور میں پی ایٹ طیارے کو تعینات کیا ہے اور یہ 14 دسمبر تک وہاں موجود رہے گا۔

اس کے علاوہ امریکہ سنگاپور میں مستقبل میں جاسوس طیارہ تعینات کرے گا اور یہ پی ایٹ یا پی تھری اورائن میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ z
Image caption چین جنوبی بحیرۂ چین میں متنازع جزیرے تعمیر کر رہا ہے

واشنگٹن میں پیر کو امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر کی سنگاپور کے وزیر دفاع نگ اینگ ہن سے ہونے والی ملاقات کے بعد یہ اعلان کیا گیا ہے۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان انسدادِ دہشت گردی، جعل سازی کے خلاف اقدامات اور آفات سے نمٹنے کی کارروائیاں پر تعاون پر اتفاق کیا گیا۔

دوسری جانب چین کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہو چیونگ نے معمول کی بریفنگ میں کہا ہے کہ ’امریکہ علاقے میں فوجی طاقت کو بڑھاوا دے رہا ہے جو کہ خطے میں طویل المدتی مشرکہ مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔‘

بحیرۂ چین میں چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے برعکس سنگاپور میں امریکی نیوی کی ترجمان نے کہا ہے کہ حالیہ تعیناتیوں (جاسوس طیارے) کا مقصد محض جنوبی بحیرۂ چین نہیں ہے۔‘

ترجمان لیفٹیننٹ کمانڈر آرلو ابراہمسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ صرف جنوبی بحیرۂ چین کے بارے میں نہیں ہے بلکہ سنگاپور اور خطے کے دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ ہماری شراکت داری کی وجہ سے ہے۔‘

گذشتہ ماہ امریکہ کے دو بمبار 52 طیاروں نے بحیرۂ چین میں تعمیر کیے جانے والے متنازع جزیرے کے قریب پرواز کی تھی جبکہ چین نے ان طیاروں کو خبردار بھی کیا تھا۔ اس سے پہلے اس جزیرے کے قریب امریکی بحری جنگی جہاز گزارا تھا اور چین نے اسے اپنی سالمیت کو خطرہ قرار دیتے ہوئے اشتعال انگیز اقدام قرار دیا تھا۔

اسی بارے میں