’حملہ آور باہمی ملاقات قبل ہی شدت پسندی کی جانب مائل تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایف بی آئی کا ماننا ہے کہ وہ دونوں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں سے متاثر تھے

امریکی تفتیشتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ریاست کیلیفورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں ہونے والے حملے میں ملوث جوڑا ایک دوسرے سے ملاقات سے قبل ہی شدت پسندی کی جانب مائل تھا۔

ڈائریکٹر جیمز کومی کا کہنا ہے کہ تاشفین ملک اور ان کے شوہر سید رضوان فاروق نے سنہ 2013 میں ایک آن لائن ڈیٹنگ ویب سائٹ پر جہاد اور شہادت کے بارے میں باتیں کی تھیں۔

’چلے جاؤ یہاں تاشفین نہیں آئی‘

’حملہ آور جوڑے نے حملے سے قبل نشانہ بازی کی مشقیں کیں‘

’امریکہ پہنچ کر اہم کام کرنا ہے‘

ایف بی آئی کے مطابق دونوں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں سے متاثر تھے، تاہم اس کا کہنا ہے کہ ابھی تفتیش جاری ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے سان برنارڈینو میں ہونے والا حملہ امریکی سرزمین پر نائن الیون کے بعد سب سے بڑا حملہ تھا جس میں 14 افراد مارے گئے تھے۔

پولیس نے اس حملے کے بعد دونوں کا پیچھا کرتے ہوئے انھیں ہلاک کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جیمز کومی کا کہنا تھا کہ تفتیش سے ’ظاہر ہوتا ہے وہ معاشقے یا آن لائن ڈیٹنگ سے قبل ہی شدت پسند ہو چکے تھے‘

بدھ کو واشنگٹن میں سینیٹ کی سماعت کے دوران جیمز کومے نے اس جوڑے کو ’اپنی سرزمین سے پیدا ہونے والے پرتشدد شدت پسند‘ قرار دیا اور کہا کہ حملے کی نوعیت کے بارے میں غیرملکی اثرورسوخ کے بارے میں تفتیش جاری ہے۔

اس سے قبل ایک اور ایف بی آئی اہلکار کا کہنا تھا کہ تاحال انھیں ایسے شواہد نہیں ملے جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ اس حملے کی منصوبہ بندی بیرون ملک کی گئی ہے۔

جیمز کومی کا کہنا تھا کہ تفتیش سے ’ظاہر ہوتا ہے وہ معاشے یا آن لائن ڈیٹنگ سے قبل ہی شدت پسند ہو چکے تھے۔‘ اس حوالے سے انھوں نے گذشتہ برس ان کی منگنی سے قبل جہاد کے بارے میں ہونے والی گفتگو کا حوالہ دیا۔

خیال رہے کہ تاشفین ملک جولائی 2014 میں امریکہ منگیتر کے ویزے پر آئی تھیں اور ان کی امریکی شہری سید رضوان فاروق سے امریکہ آمد سے ایک ماہ بعد شادی ہوئی تھی۔

واشنگٹن میں بی بی سی نامہ نگار جین اوبرائن کا کہنا ہے کہ یہ انکشافات اہم ہیں، کیونکہ اس سے قبل یہ سمجھا جارہا تھا کہ تاشفین ملک نے اپنے شوہر کو شدت پسند کی جانب مائل کیا تھا۔

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کا مزید کہنا تھا کہ تفتیش کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے اور اس حملے کے لیے ’معاونت فراہم کرنے، مدد کرنے اور ساز و سامان فراہم کرنے‘ والوں کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں