حمص سے شامی باغیوں کے انخلا کا آخری مرحلہ شروع

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام کے وسطی علاقے میں واقع حمص کو ایک وقت میں ’انقلاب کا درالخلافہ‘ بھی کہا جاتا تھا

شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ایک گروپ کے مطابق حمص سے حکومت مخالف باغیوں کے انخلا کا آخری مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔

یہ انخلا کا عمل اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ہو رہا ہے۔

’حمص میں طبی عملے کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا‘

اس معاہدے کے تحت حمص شہر کا مکمل کنٹرول حکومت کے پاس رہنا ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ باغیوں سے بھری بسیں شہر کے الوائیر نامی علاقے سے روانہ ہوئی ہیں۔

حمص چھوڑ کر جانے والے باغی صوبہ ادلب کا رخ کر رہے ہیں جہاں کے کچھ علاقوں پر اب بھی ان کا کنٹرول ہے۔

یکم دسمبر کو شامی حکومت اور باغی جنگجوؤں کے درمیان حمص میں ان کے زیرِ اثر علاقوں میں لڑائی ختم کرنے کا معاہدہ طے پایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption باغی جنگجوؤں کا سلسلہ وار انخلا آئندہ دو ماہ میں مکمل ہوگا

اس وقت حمص میں صوبائی گورنر نے کہا تھا کہ معاہدے کے تحت’اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ باغیوں کے زیر قبضہ آخری علاقہ الوائر کو جنگجو جلد خالی کر دیں گے۔‘

انھوں نے مزید کہا تھا کہ باغی جنگجوؤں کا سلسلہ وار انخلا آئندہ دو ماہ میں مکمل ہوگا جس کے بدلے میں سرکاری افواج علاقے پر گولہ باری اوراس کا محاصرہ ختم کر دیں گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال بھی اسی طرح کے معاہدے کے تحت باغی جنگجوؤں سے حمص شہر کے دیگر حصوں کو خالی کرایا گیا تھا۔

شام کے وسطی علاقے میں واقع حمص کو ایک وقت میں ’انقلاب کا درالخلافہ‘ بھی کہا جاتا تھا اور یہیں 2011 میں پہلی بار صدر بشار الاسد کے خلاف مظاہرے ہوئے تھے۔

حکومتی افواج نے 2012 میں اس شہر میں موجود باغیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور دو سال تک شہر کے قدیم حصے کے محاصرے کے بعد بالآخر باغی پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے تھے۔

اسی بارے میں