دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے الزام میں سڈنی سے دوگرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ New South Wales Police
Image caption ولیس کے مطابق انہیں چھاپوں کے دوران ملنے والی دستاویزات میں حکومت اور پولیس کی عمارتوں پر حملوں کے منصوبے کا ذکر تھا اور جمعرات کو ہونے والی گرفتاریوں کا تعلق بھی اسی منصوبے سے ہے

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پولیس نے انسداد دہشت گردی کے ایک آپریشن کے تحت سڈنی میں دو نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے جن کی عمر 15 اور 20 برس بتائی گئی ہے۔

وفاقی پولیس کا کہنا ہے کہ ان افراد پر ملک میں دہشت گردی کی کارروائی کی تیاری کی سازش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

نیو ساؤتھ ویلز پولیس کا کہنا ہے کہ 15 برس کے جس لڑکے کو حراست میں لیا گیا ہے اس کے ذہن کو شدت پسندی سے آلودہ کر دیا گیا ہے۔

پولیس افسر کیتھرین برن نے کہا ’یہ بہت تکلیف دہ ہے کہ اس ماحول میں ہمیں نوجوان بچوں کے ساتھ اس طرح پیش آنا پڑ رہا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ 15 برس کے بچّے کو ایسے سنگین جرم کے لیے عدالت کے سامنے پیش کرنا، جس کی سزا عمر قید ہوسکتی ہے، ظاہر کرتا ہے کہ قانون نافذ کرنے والوں کو کن مشکلات کا سامنا ہے۔‘

پولیس کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والی گرفتاریوں کا تعلق دہشت گردی کے کسی نئے منصوبے سے نہیں ہے بلکہ گذشتہ برس انسداد دہشت گردی کے لیے ایپل بائی نامی جس آپریشن کے تحت متعدد گرفتاریاں ہوئی تھیں اس کا تعلق بھی اسی سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آسٹریلیا کی پولیس نے سڈنی میں جمعرات کی صبح انسداد دہشت گردی کے ایک آپریشن کے تحت 15 برس اور ایک 20 برس کی عمر کے شخص کو گرفتار کیا ہے

یہ آپریشن ستمبر 2014 میں انٹیلی جنس کی اس رپورٹ کی بنیاد پر کیا گيا تھا کہ اسلامی شدت پسند آ‎سٹریلیا میں قتل و غارت گری کی بڑی کارروائیوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

انسداد دہشت گردی کی اس بڑی کارروائی کے تحت 16 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق انہیں چھاپوں کے دوران ملنے والی دستاویزات میں حکومت اور پولیس کی عمارتوں پر حملوں کے منصوبے کا ذکر تھا اور جمعرات کو ہونے والی گرفتاریوں کا تعلق بھی اسی منصوبے سے ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ’آپریشن ایپل بائی‘ کے تحت اب تک گيارہ افراد پر الزامات عائد کیے جا چکے ہیں جبکہ تین دیگر افراد جو بعض دیگر جرائم کے سبب پہلے سے جیل میں ہیں ان پر بھی جلد ہی نئےالزامات عائد کیے جائیں گے۔

قومی سلامتی کے ڈپٹی کمشنر مائیکل فیلن نے کہا ’تمام معلومات کو ایک ساتھ جمع کرنے، ان دستاویزات پر کام کرنے، الیکٹرانک کے ساتھ ساتھ جسمانی نگرانی رکھنے کے نتیجے میں ہم ان پانچ افراد کے خلاف سازش کا مقدمہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں جو ان دستاویزات کی تیاری میں ملوث تھے۔‘

اسی بارے میں