محمد علی کی ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption محمد علی ایک ثقافتی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے سب سے مشہور مسلمانوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں

باکسنگ کے سابق عالمی چیمپیئن محمد علی نے امریکی ریپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کے بیان پر تنقید کی ہے۔

امریکہ میں سان برنارڈینو کے حملے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز پیش کی تھی کہ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگائی جائے۔

مشرق وسطیٰ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مصنوعات کی فروخت منسوخ

’ٹرمپ کا بیان خطرناک اور شرمناک ہے‘

مسلمانوں پر پابندی کے مطالبے سے ’امریکہ کی سلامتی کو خطرہ‘

ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر محمد علی نے کہا کہ مسلمانوں کو ’ان لوگوں کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا جو اسلام کو اپنے ذاتی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔‘

73 سالہ محمد علی تین مرتبہ باکسنگ کے عالمی چیمپیئن رہ چکے ہیں۔ ایک ثقافتی علامت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے سب سے مشہور مسلمانوں میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں۔

دنیا بھر سے تنقید کا نشانہ بننے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ صدارتی امیدوار کی دوڑ کبھی نہیں چھوڑیں گے۔

امریکی ایوان صدر وائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی مخالفت میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد وہ صدارتی امیدوار بننے سے ’نا اہل‘ ہو چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption دنیا بھر سے تنقید کا نشانہ بننے کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ صدارتی امیدوار کی دوڑ کبھی نہیں چھوڑیں گے
تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption فیس بک کے بانی نے بھی مسلمانوں کی حمایت میں ایک بیان جاری کیا ہے

محمد علی کے بیان نے ’امریکہ میں آنے والے مسلمان تارکین وطنوں پر پابندی لگانے کی تجویز پیش کرنے والے صدارتی امیدواروں‘ کی طرف اشارہ کیا تھا۔

اپنے بیان میں انھوں نے مزید کہا: ’ایسے لوگوں نے اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے سے کئی لوگوں کو دور کیا ہے۔‘

سابق ہیوی ویٹ چیمپیئن محمد علی نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں پر بھی سخت تنقید کی۔

انھوں نے کہا کہ ’سچے مسلمان جانتے ہیں کہ اپنے آپ کو اسلامی جہادی کہنے والوں کی بے رحم پر تشدد سرگرمیاں ہمارے مذہب کے اصولوں کے خلاف ہیں۔‘

محمد علی نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ’ان گمراہ قاتلوں نے اسلام کی اصلیت کے بارے میں لوگوں کے خیالات بدل دیے ہیں۔‘

’پیرس، سان برناڈینو یا دنیا میں کسی بھی جگہ پر معصوم لوگوں کو قتل کرنا کہیں سے اسلام نہیں ہے۔‘

محمد علی کا یہ بیان اتوار کو صدر اوباما کے قوم سے خطاب کے بعد آیا ہے جس میں انھوں نے امریکیوں کو امتیازی سلوک نہ برتنے کا کہا تھا۔

اپنے خطاب میں اوباما نے یہ بھی کہا تھا کہ ’امریکی مسلمان شہری ہمارے دوست اور ہمسائے ہیں، ہمارے ساتھی ہیں اور ہماری کھیلوں کے ہیرو ہیں۔‘

صدر اوباما کے خطاب کے رد عمل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’اوباما نے اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمان کھیلوں کے ہیرو ہیں۔ وہ کس کھیل کی بات کر رہے ہیں اور کون سے ہیرو کی؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption سنہ 2007 میں ڈونلڈ ٹرمپ کو محمد علی کے نام پر مبنی ایک انعام بھی دیا گیا تھا

امریکہ کی ریاست کینٹکی سے تعلق رکھنے والے باکسر محمد علی پہلے کیسیئس کلے کے نام سے جانے جاتے تھے لیکن سونی لسٹن کے خلاف 25 فروری سنہ 1954 کو ہونے والے اہم مقابلے کے اگلے ہی دن انھوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اسلام قبول کر رہے ہیں اور اپنا نام بدل کر محمد علی رکھ لیا تھا۔

خیال رہے کہ سماجی روابط کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے یورپ اور امریکہ میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پُرتشدد ردعمل سے خوفزدہ مسلمانوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک پر اپنے پیغام میں زکربرگ نے کہا ہے کہ وہ فیس بک پر موجود مسلمانوں کے علاوہ دنیا بھر میں رہنے والے مسلمانوں کی حمایت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’پیرس حملوں اور اس ہفتے میں دیکھی جانے والی نفرت کے بعد میں خوفزدہ مسلمانوں کے خدشات محسوس کرنے کا صرف تصور ہی کر سکتا ہوں کہ انھیں دوسروں کی غلطیوں کی قیمت چکانی پڑے گی۔‘

فیس بک کے چیف ایگزیکیٹو افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایک یہودی کی حیثیت سے، میرے والدین نے مجھے یہ تربیت دی ہے کہ کسی پر بھی حملے کے خلاف ضرور کھڑے ہو۔ یہاں تک کہ آج یہ حملہ آپ پر نہ ہوا ہو، لیکن کسی کی آزادی پر حملے سے سبھی متاثر ہوتے ہیں۔اگر آپ مسلمان ہیں تو فیس بک کے سربراہ کی حیثیت سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ کو ہمیشہ یہاں خوش آمدید کہیں گے اور آپ کے حقوق کی تحفظ کے لیے لڑیں گے، اور آپ کے لیے پُرامن اور محفوظ ماحول بنائیں گے۔‘

اسی بارے میں