زکربرگ کا مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زکربرگ نے کہا کہ اگر ایک دوسرے میں مثبت پہلو دیکھا جائے تو تمام لوگوں کے لیے بہتر دنیا تشکیل دی جا سکتی ہے

سماجی روابط کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے یورپ اور امریکہ میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد پُرتشدد ردعمل سے خوفزدہ مسلمانوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

فیس بک پر اپنے پیغام میں زکربرگ نے کہا ہے کہ وہ فیس بک پر موجود مسلمانوں کے علاوہ دنیا بھر میں رہنے والے مسلمانوں کی حمایت کرتے ہیں۔

پیرس، سان برنارڈینو اور کیلیفورنیا حملوں کے بعد سے امریکہ اور اُس سے باہر ممالک میں مسلمانوں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

زکربرگ نے لکھا کہ ’میں اپنی برادری اور دنیا بھر میں موجود مسلمانوں کی حمایت میں اُٹھنے والی آوازوں کے ساتھ اپنی آواز ملانا چاہتا ہوں۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ پیرس حملوں اور رواں ہفتے پروان چڑھنے والی نفرت کے بعد وہ اس خوف کا تصور کر سکتے ہیں جو مسلمان محسوس کرتے ہیں، اور اُنھیں دوسروں کے اعمال کے باعث ستایا جاتا ہے۔

فیس بک کے چیف ایگزیکیٹو افسر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ایک یہودی کی حیثیت سے، میرے والدین نے مجھے یہ تربیت دی ہے کہ کسی پر بھی حملے کے خلاف ضرور کھڑے ہو۔ یہاں تک کہ آج یہ حملہ آپ پر نہ ہوا ہو، لیکن کسی کی آزادی پر حملے سے سبھی متاثر ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ مسلمان ہیں تو فیس بک کے سربراہ کی حیثیت سے میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم آپ کو ہمیشہ یہاں خوش آمدید کہیں گے اور آپ کے حقوق کی تحفظ کے لیے لڑیں گے، اور آپ کے لیے پُرامن اور محفوظ ماحول بنائیں گے۔

حال ہی میں پیدا ہونے والی بیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے مارک زکربرگ کا کہنا تھا کہ ’بچی کے والدین کی حیثیت سے ہمیں بہت اُمید ملی، لیکن کسی کی نفرت کے باعث آپ آسانی سے مایوسی کا شکار ہو سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسی صورت حال میں اُمید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ’جب تک ہم ایک ساتھ کھڑے ہیں اور ایک دوسرے میں مثبت پہلو دیکھ رہے ہیں تو ہم تمام لوگوں کے لیے بہتر دنیا تشکیل دے سکتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ امریکہ میں سان برنارڈینو کے حملے کے بعد مسلمانوں کی مخالفت میں رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بننے کے خواہشمند ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز پیش کی تھی کہ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی لگائی جائے۔

تاہم ان کی اس تجویز کو ’تعصبانہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کی سیاسی اور سماجی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

اسی بارے میں