ڈونلڈ ٹرمپ نے حد پار کر لی ہے: ہلیری کلنٹن

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کلنٹن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات نام نہاد دولت اسلامیہ کے عروج کے خلاف کی جانے والی ملکی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں

امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کی صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے اپنے حریف ڈونلڈ ٹرمپ کی مذمت کرتے ہوئے ان کے بیان کو خطرناک قرار دے دیا ہے۔

جمعرات کو امریکی ٹیلی وژن چینل این بی سی کے پروگرام لیٹ نائٹ ود سیتھ مائیرز میں انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کی تجویز دینے کے بعد ٹرمپ اب انھیں مزاحیہ نہیں لگتے۔

’مجھے اپنے مسلح ہمسایے سے زیادہ ڈر ہو گا‘

مشرق وسطیٰ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مصنوعات کی فروخت منسوخ

ڈونلڈ ٹرمپ کو مسلمان میرین کا جواب

فرانس کے دارالحکومت پیرس اور امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان برنارڈینو پر حملوں کے بعد ٹرمپ کی جانب سے مسجدوں کی نگرانی کرنے اور امریکہ میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کی تجویز پیش کی گئی تھی۔

پروگرام کے میزبان سیتھ مائیرز سے گفتگو کرتے ہوئے کلنٹن نے کہا کہ ’میرے خیال میں گذشتہ چند ہفتوں سے، آپ کو تو معلوم ہے، آپ اور باقی افراد لوگوں کو خوب ہنسا رہے تھے۔ لیکن اب انھوں نے حد پار کر لی ہے۔ اور اب وہ جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ نہ صرف غلط اور شرمناک ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔‘

کلنٹن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے بیانات نام نہاد دولت اسلامیہ کے عروج کے خلاف کی جانے والی ملکی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور شدت پسندگروہ کی جانب سے بھرتیوں کے لیے کیے جانے والے ’پروپیگنڈا‘ میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’مسلمانوں کو ملک میں داخل نہ ہونے دینے کا حالیہ تقاضا شدت پسندوں کی مدد کرنے کے مترادف ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کی تجویز دی تھی

’میں یہ یونہی نہیں کہہ رہی ہوں، بلکہ ایسا ہی ہے۔ وہ انھیں (شدت پسندوں کو) پروپیگنڈا کرنے کے لیے اہم نکتہ دے رہے ہیں، امریکہ اور یورپ سے مزید بھرتیاں کرنے کے لیے راہ فراہم کر رہے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک طرح سے حد سے تجاوز ہے اس لیے میرے خیال میں ہر ایک کو اور خاص طور پر ری پبلکن پارٹی کے لوگوں کو سخت موقف اپنانے اور یہ کہنے کی ضرورت ہے کہ ’بس، آپ نے حد سے بہت تجاوز کر لیا ہے۔‘

دوسری جانب برطانیہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے داخلے پر پابندی کی آن لائن درخواست پر دستخط کرنے والے افراد کی تعداد پانچ لاکھ سے زائد ہوچکی ہے۔

اسی بارے میں