’دولتِ اسلامیہ نے شام اور عراق میں ایک ارب ڈالر لُوٹے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ دولتِ اسلامیہ سے تیل کے خریداروں میں شامی حکومت بھی شامل ہے

امریکی محکمۂ خزانہ کے سینیئر اہلکار نے کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے شام اور عراق میں اپنے زیرِ قبضہ علاقوں کے بینکوں سے ایک ارب ڈالر کے قریب رقم لوٹی ہے۔

لندن میں بات کرتے ہوئے ایڈم زوبن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے علاوہ تنظیم نے تیل کی فروخت سے مزید 50 کروڑ ڈالر کمائے ہیں۔

دولت اسلامیہ کی آمدن اور اخراجات کیا ہیں؟

دولتِ اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تنخواہ میں کمی

امریکی اہلکار نے دعویٰ کیا کہ اس تیل کے خریداروں میں شامی حکومت بھی شامل ہے۔

اس سے قبل بی بی سی کے پروگرام نیوز روم میں بات کرتے ہوئے دولتِ اسلامیہ کی آمدن کے بارے میں تحقیق کرنے والے کولمب سٹارک نے کہا تھا کہ خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم ٹیکس سے ہر ماہ آٹھ کروڑ ڈالر اور سالانہ تقریباً 96 کروڑ امریکی ڈالر کما رہی ہے۔

سٹارک کا کہنا تھا دولت اسلامیہ صرف دہشت گرد تنظیم ہی نہیں۔ ’وہ ایک ریاست چلا رہے ہیں اور اُنھوں نے مقامی دکانداروں سے لے کر انٹرنیٹ فراہم کرنے والے تک تمام تجارتی طبقے پر 20 فیصد کے حساب سے ٹیکس لگا دیا ہے۔‘

انھوں نے بتایا تھا کہ ’اعداد وشمار کے حساب سے 50 فیصد آمدنی ٹیکس اور جائیداد ضبط کرنے سے جبکہ 43 فیصد آمدنی تیل سے اور باقی منشیات کی سمگلنگ، بجلی کی فروخت اور نجی عطیات سے حاصل ہوتی ہے۔‘

دولتِ اسلامیہ 2014 میں اُس وقت عالمی منظرنامے پر سامنے آئی تھی جب اِس کے جنگجوؤں نے شام اور عراق کے بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

اسی بارے میں