لاوارث ہوائی جہازوں کے دعویدار سامنے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption تین بوئنگ جہازوں سیون فور سیون کے مالکان کے بارے میں تا حال کچھ پتہ نہیں ہے

ملائیشیا کی ایک فضائی کارگو کمپنی کا کہنا ہے کہ کوالالمپور کے ہوائی اڈے پر ایک سال سے کھڑے تین بوئنگ 747 جہاز اس کے ہیں۔

سوئفٹ ایئر نامی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ ان جہازوں کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن ملائیشیا کے ہوائی اڈے کے ساتھ کاغذی کارروائی کے حوالے سے ان کا تنازع جاری ہے۔

ملائیشیا کےدارالحکومت کوالالمپور کے ہوائی اڈے کے حکام کی جانب سے رواں ہفتے ہوائی اڈے پر کھڑے تین بوئنگ جہازوں کے مالکان کی تلاش کے لیے اخبارات میں اشتہار شائع کیاگیا ہے۔

جہازوں کی ملکیت کے دعوے کے بارے میں ہوائی اڈے کی جانب سے کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آیا ہے۔

بیان میں سوئفٹ ایئر کا کہنا ہے کہ انھوں یہ جہاز جون میں ہانگ کانگ سے خریدے تھے اور انھیں ہوائی اڈے سے وصول کرنا تھا۔ تاہم ہوائی اڈے کی انتظامیہ نے انھیں جہازوں تک رسائی نہیں دی اور یہ کہا گیا کہ انھیں ان جہازوں سے متعلق کاغذی کارروائی میں کچھ شبہات ہیں۔

ہوائی اڈے کی جانب سے شائع کیےگئے اشتہار میں کہا گیا تھا کہ اگر جہازوں کے مالکان آئندہ 14 دن کے اندر جہازوں کی ملکیت ظاہر کرنے اور ان کا انتظام کرنے میں ناکام رہے تو ’ہمیں اختیار ہوگا کہ ان جہازوں کو فروخت کر دیں یا ان کو ٹھکانے لگادیں۔‘

اشتہار کے مطابق جہاز کے مالکان کے ذمے نہ صرف جہازوں کے اس ہوائی اڈے پر اترنے بلکہ پارکنگ کی فیس بھی واجب الادا ہے۔

ملائشیا ایئرپورٹس کے جنرل مینیجر زین المحد عیسیٰ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دہائی میں کچھ طیارے جو زیادہ تر چھوٹے سائز کے تھے، انھیں بھی مالکان نے یونہی چھوڑ دیا تھا۔ ان میں سے ایک کوسنہ 1990 میں ہوائی اڈے پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس جہاز کو بعد میں خریدنے والے نے کوالالمپور کے نواح میں ایک ریستوران میں تبدیل کر دیا تھا۔

حکام کہتے ہیں کہ اگر ہوائی اڈے پر کھڑے تین جہازوں کی طرف واجب الادا رقم 21 دسمبر تک نہ ملی تو جہازوں کو نیلام کر دیا جائے گا یا پھر انھیں سکریپ میں بیچ کر کچھ رقم حاصل کی جائے گی۔