شامی حکومت کو ’دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بشار الاسد نے کہا کہ ’شام میں جس کے ہاتھ میں بھی مشین گن ہے وہ دہشت گرد ہے‘

شام کے صدر بشار الاسد نے شامی مسلح باغی گروہوں کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے انھیں دہشت گرد اور مغربی طاقتوں کی کٹھ پتلیاں قرار دیا ہے۔

خیال رہے کہ جمعرات کو سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں حزب مخالف جماعتوں اور باغیوں میں ان اصولوں پر سمجھوتہ طے پایا تھا جن کے تحت شامی حکومت سے امن مذاکرات ہونے تھے۔

سعودی عرب کےاجلاس میں کون شریک؟

شامی حزب اختلاف کا حکومت سے مذاکرات کے اصولوں پر اتفاق

پوتن کا روسی فوج کو شام میں سخت کارروائی کا حکم

اس اجلاس کا واشنگٹن نے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امن مذاکرات کی جانب اہم قدم قرار دیا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی مطابق صدر بشار الاسد نے ہسپانوی خبررساں ادارے ای ایف ای کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت ’حزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات کے لیے آج ہی تیار ہے‘ تاہم انھوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ وہ مسلح گروہوں کے ساتھ مذاکرات نہیں کریں گے۔

’ابھی تک ہم دیکھ رہے ہیں کہ سعودی عرب، امریکہ اور کچھ مغربی ممالک کچھ دہشت گرد گروہوں کی ان مذاکرات میں شمولت چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’وہ شامی حکومت سے چاہتے ہیں کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کیے جائیں، میرا نہیں خیال کہ ملک میں کوئی ایسا قبول کرے گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ریاض میں منعقدہ باغی گروہوں کی کانفرنس کا واشنگٹن نے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے امن مذاکرات کی جانب اہم قدم قرار دیا تھا

بشار الاسد نے کہا کہ ’ہمارے لیے، شام میں جس کے ہاتھ میں بھی مشین گن ہے وہ دہشت گرد ہے۔‘

خیال رہے کہ ریاض میں منعقدہ حزب اختلاف اور باغی گروہوں کے اس اجلاس میں آزاد ارکان اور سیاسی تنظیموں کے سو سے زیادہ نمائندوں نے شرکت کی جن میں 16 مسلح گروہوں کے نمائندے بھی شامل تھے۔

حزب اختلاف کے گروہوں کا یہ کہنا ہے کہ کسی بھی منتقلی اقتدار کے عمل کے آغاز سے قبل صدر بشار الاسد کو اپنا عہدہ چھوڑنا ہوگا۔

دوسری جانب امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری منگل کو ماسکو کا دورہ کر رہے ہیں جہاں کو روسی صدر ولاوی میر پوتن سے ملاقات کریں گے۔

خیال رہے کہ روس شامی صدر بشار الاسد کا اہم اتحادی ہے۔

اسی بارے میں