کیا ڈونلڈ ٹرمپ واقعی صدر بن سکتے ہیں؟

Image caption ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت 25 فیصد پر رکی ہوئی نہیں ہے

اپنے متنازعہ بیانات پر دیگر ریپبلکن امیدواروں کی جانب سے شدید تنقید کے باوجود ارب پتی ڈونلڈ ٹرمپ ابھی تک امریکی صدارت کے امیداروں میں سب سے آگے نظر آ رہے ہیں۔

کیا ڈونلڈ ٹرمپ انتخابی جائزوں میں نظر آنے والی اس حمایت کو ریپلکن پارٹی کی جانب سے نامزدگی کے لیے درکار ووٹوں میں تبدیل کر سکتے ہیں اور آیا وہ واقعی امریکہ کے صدر بن سکتے ہیں؟

ریپبلکن پارٹی کے ارکان کی جانب سے رائے شماری کا باقاعدہ آغاز ریاست لووا سے یکم فروری کو ہوگا، جس کے بعد ریاست نیو ہیمشائر اور اس کے بعد باقی تمام ریاستیں یکے بعد دیگرے ڈیموکرٹک پارٹی کے مد مقابل اپنی جماعت کے امیدوار کا فیصلہ کریں گے۔

ہم نے امریکی سیاست کے کچھ ماہرین سے پوچھا کہ ان کے خیال میں ڈونلڈ ٹرمپ کے امکانات کیا ہیں۔

نارمن اورنسٹین، محقق، امریکن اینٹرپرائیز انسٹیٹیوٹ

ٹرمپ نامزد تو ہو سکتے ہیں لیکن صدر نہیں بن سکتے۔

اگرچہ سیاسی پنڈت ایک عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جیتنے کے کوئی امکانات نہیں ہے، لیکن میرا خیال ہے کہ وہ اس دوڑ میں دیر تک رہیں گے اور اس بات کے امکانات بھی موجود ہیں کہ وہ ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی کی دوڑ جیت جائیں۔

یہ رائے دیتے ہوئے ہمیں ذرا محتاط رہنا ہوگا کیونکہ ابھی امریکی صدارت کی دوڑ شروع ہوئے بہت کم عرصہ ہوا ہے اور کچھ جائزوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ٹرمپ کی حمایت کرنے والے رائے دہندگان نے اس سے پہلے کبھی ابتدائی مراحل یا پرائمریز میں اپنی رائے کا اظہار نہیں کیا ہے۔

لیکن دوسری جانب دیکھا جائے تو ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت 25 فیصد پر رکی ہوئی نہیں ہے، اور اگر یہ حمایت 25 فیصد پر رکی رہتی ہے تب بھی وہ کئی پرائمریز جیت سکتے ہیں جسے وہ ایک انتخابی لہر کے طور پر اپنے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔ انھیں ابھی تک زیادہ رقم لگانے کی ضرورت نہیں پڑی ہے، تاہم انھوں نے ابتدائی ریاستوں میں اپنا انتخابی ڈھانچہ ضرور کھڑا کر لیا ہے۔

آنے والے دنوں میں اگر یورپ یا امریکہ میں پیرس یا کیلیفورنیا جیسے دہشتگردی کے واقعے کے امکانات جتنے زیادہ ہوں گے، اسی قدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خطیبانہ بیانات کو تقویت ملے گی اور اُن قدامت پسند رائے دہندگان میں ان کی مقبولت میں اضافہ ہوگا جو پہلے ہی خاصے برھم دکھائی دیتے ہیں۔

Image caption کئی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیڈ کروز کو اس دوڑ سے باہر نہ سمجھا جائے

اس کے علاوہ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ ان دنوں مختلف ریڈیو سٹیشنوں سے منسلک اور انٹرنیٹ پر اپنی رائے کا اظہار کرنے والے تجزیہ کاروں نے ملک میں ایک ایسی فضا بنا رکھی ہے جس میں اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے جس کا نشانہ ریپبلکن رہنما بھی ہیں اور خود صدر اوباما بھی۔ ان تجزیہ کاروں پر خاصا پیسہ لگایا جا رہا ہے۔

قصہ مختصر یہ کہ اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ ٹرمپ امریکہ کے صداتی انتخابات جیت جائیں لیکن یہ ناممکنات میں سے بھی نہیں ہے۔

رابرٹ شلیزنجر، ایڈیٹر، یو ایس نیوز

ٹرمپ نہ تو نامزد ہو سکتے ہیں اور نہ ہی صدر بن سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں میرے پاس کئی دلائل موجود ہیں، جن میں سے پہلی بات امریکی انتخابات کی تاریخ ہے۔

آج تک امریکہ میں کسی جماعت نے کسی ایسے شخص کو اپنا صدارتی امیدوار نامزد نہیں کیا ہے جو تجربے سے اتنا عاری ہو جتنا ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔

آج تک صرف پانچ ایسے افراد گزرے ہیں جو صدر بننے سے پہلے کسی بڑے عہدے پر فائز نہیں تھے اور ان پانچ میں سے تین ایسے تھے جو فوجی جرنیل تھے اور دوسرے دو وہ تھے جو کسی دوسرے بڑے عہدے پر فائز تو نہیں تھے لیکن صدارتی کابینہ میں ضرور رہ چکے تھے۔

اگر آپ ماضی قریب پر نظر دوڑائیں تو آپ کو دکھائی دےگا کہ انتخابی جائزے کتنے غلط ثابت ہو سکتے ہیں۔ آٹھ سال پہلے آج کے دن ہر جائزے میں یہی کہا جا رہا تھا کہ نیویارک کے سابق میئر رُوڈی جولیانی صدر بن جائیں گے، لیکن جو شخص نامزدگی کی دوڑ جیتا وہ سینیٹر جان مکین تھے جو جائزوں میں چوتھے نمبر تھے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مسٹر ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کے ایسے رائے دہنگان میں مقبول ہو چکے ہیں جو امریکی معیشت، تارکین وطن کی آمد اور دہشتگردی کے خلاف جاری پراپیگنڈے سے متاثر ہیں۔ اس کے علاوہ مسٹر ٹرمپ کو یہ برتری بھی حاصل ہے کہ وہ ہر وقت خبروں میں رہتے ہیں، لیکن میرا خیال ہے کہ نامزدگی کے آخری مراحل سے بہت پہلے ہی مسٹر ٹرمپ منظر سے غائب ہو جائیں گے۔

فروما ہاروپ، معروف کالم نگار

ٹرمپ نامزد ہو سکتے ہیں لیکن صدر نہیں بن سکتے۔

Image caption آٹھ سال پہلے کہا جا رہا تھا کہ نیویارک کے سابق میئر رُوڈی جولیانی صدر بن جائیں گے

ڈونلڈ ٹرمپ کا صدارتی دوڑ میں شامل ہونا شروع شروع میں تو محض ایک کھیل ہی دکھائی دیتا تھا۔ ان کے غیر سنجیدہ بیانات سے ہر کسی کو یہی لگتا تھا کہ وہ کوئی سنجیدہ امیدوار نہیں ہیں اور ان کا واحد مقصد صدارتی نامزدگی کی دوڑ کو خراب کرنا تھا۔

لیکن آج ہم وہاں کھڑے ہیں جہاں دنیا بھر میں لوگ ٹرمپ کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں لیکن دوسری جانب اپنے ان حماتیوں میں ٹرمپ کی مقبولیت میں کوئی فرق نہیں پڑا جن کی اکثریت کا تعلق امریکہ کے کھاتے پیتے لوگوں سے ہے۔

تو کیا ٹرمپ ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی کا انتخاب جیت سکتے ہیں؟

یہ شکوک تو اب ختم ہو گئے ہیں کہ مسٹر ٹرمپ سنجیدہ امیداور نہیں ہیں۔ اسی طرح اس بات کے امکانات بھی اب ختم ہو گئے ہیں کہ ریپبلکن پارٹی کے کرتا دھرتا افراد ٹرمپ کو بالکل نظر انداز کر کے اپنا وزن کسی زیادہ سنجیدہ امیدوار کے حق میں ڈال سکتے ہیں۔

اس کا مطلب یہی ہے کہ مسٹر ٹرمپ ریبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار بن سکتے ہیں۔

لیکن یہ بات کہنا غلط ہے کہ وہ امریکہ کے صدر بھی بن سکتے ہیں۔ ایسا بالکل نہیں ہو سکتا کیونکہ ایک طویل عرصے سے تمام جائزوں میں یہ بات مسلسل سامنے آ رہی ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کی ہلیری کلنٹن مسٹر ٹرمپ سمیت ریپبلکن پارٹی کے تمام امیدواروں سے آگے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان اتنا بے تکا تھا کہ اب خود ریپبلکن پارٹی کے کئی ارکان نے کھلم کھلا یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ وہ ہلیری کلنٹن کے حق میں ووٹ ڈالنے کا سوچ رہے ہیں۔ ایک نئے جائزے کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے ایک تہائی ارکان کا کہنا ہے کہ وہ مسٹر ٹرمپ کی باتیں سن کر پریشان ہیں اور انھیں فکر ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔

امریکہ کے اگلے صدر مسٹر ٹرمپ نہیں ہوں گے۔ یہی بات کافی پریشان کن ہے کہ وہ اس دوڑ میں یہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

کائل کونڈیک، یونیورسٹی آف ورجینیا

نامزدگی کے امکانات کم ہیں اور صدارت کا کوئی امکان نہیں۔

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کی نامزدگی کے ابتدائی مرحلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے سب سے آگے رہنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بے تُکے اور متنازعہ بیانات دینے کے باوجود ان کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ان بیانات سے ٹرمپ کو بہت نقصان پہنچا ہے۔

ٹرمپ کے نسل پرستانہ بیانات اور خطابت کے بعد ریبپلکن پارٹی کے اندر کئی رہنما اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ عام انتخابات میں ہلیری کلنٹن جیسی مضبوط امیدوار کے مقابلے میں ٹرمپ کو لانا ریبلپکن پارٹی کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

Image caption تمام ابتدائی مراحل میں فیصلہ ووٹوں کے تناسب کے لحاظ سے کیا جائے گا

امریکی صدارتی انتخابات میں پرائمریز کا مرحلہ ایک طویل مرحلہ ہوتا ہے جو فروری میں شروع ہوتا ہے اور جولائی میں پارٹی کے کنوینشن تک جاری رہتا ہے، اس لیے ریپبلکن پارٹی کے دیگر امیدوار اتنی دیر تک انتظار نہیں کریں گے۔ اگر مسٹر ٹرمپ کے خیال میں پرائمریز کے دوران تین گھنٹے تک سٹیج پر کھڑے ہو کر اپنی پارٹی کے دیگر صدارتی امیدواروں کی تقریروں کا سامنا کرنا مشکل ہے، تو انھیں سوچنا چاہیے کہ آخری مراحل میں ان کا حال کیا ہوگا۔

قومی سطح پر ٹرمپ خاصے غیر مقبول ہیں اور اس بات کا تصور مشکل ہے کہ وہ اس غیر مقبولیت کو مقبولیت میں کیسے تبدیل کریں گے۔

آئندہ صدارتی انتخابات کے حوالے سے ایک سوال مسلسل پوچھا جا رہا ہے اور وہ سوال یہ ہےکہ آیا ہیلری کلنٹن غیرسفید فام ووٹروں میں یہ جذبہ ابھار پائیں گی کہ وہ لوگ انتخابات کے دن باہر نکلیں اور اپنا ووٹ ڈالیں۔ اگر ریپبلکن پارٹی کی جانب سے مسٹر ٹرمپ پارٹی کے حتمی امیدوار ثابت ہوتے ہیں تو ہیلری کلنٹن کے لیے یہ بڑی خوشی کی بات ہوگی کیونکہ اس صورت میں غیرسفید فام لوگ مسٹر ٹرمپ کے جیت جانے کے خوف سے باہر نکلیں گے اور ہیلری کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔

ربیکا ڈین، شعبہ سیاسیات، یونیورسٹی آف ٹیکسس

ممکن تو ہے لیکن اس بات کے امکانات کم ہی ہیں کہ مسٹر ٹرمپ امریکہ کے صدر بن جائیں۔

اگرچہ مسٹر ٹرمپ ذرائع ابلاغ اور سیاست بازی سے بیزار لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، لیکن نامزدگی کا مرحلہ ابھی بہت دور ہے۔ نامزدگی کا انتخاب جیتنے کے لیے انھیں 2,470 میں سے 1,236 نمائندگان کی حمایت ضروری ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ نمائندگان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مسٹر ٹرمپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ پرائمریز کے مرحلے میں زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کریں۔

لیکن اس مرتبہ ریپبلکن پارٹی کی نیشنل کمیٹی نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ 15 مارچ سے پہلے کے مرحلے میں ہر ریاست کے امیدوار کا انتخاب متناسب نمائندگی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

15 مارچ سے پہلے کئی ریاستوں میں پرائمریز کا مرحلہ مکمل ہو جائے گا اور خاص طور پر ریاست لووا اور نیو ہیمشائر کے نتائج قومی سطح پر اثر انداز ہوں گے۔

چونکہ ان تمام ابتدائی مراحل میں فیصلہ ووٹوں کے تناسب کے لحاظ سے کیا جائے گا، اس لیے اس بات کے امکانات زیادہ ہیں کہ مسٹر ٹرمپ اس دوڑ میں اپنے مد مقابل امیدواروں، مسٹر کروز، مارکو روبیو اور بین کارسن، سے ابتدائی مرحلے میں ہی مار کھا جائیں۔

اس لیے میرا خیال یہی کہ مسٹر ٹرمپ کے لیے اپنے متنازعہ بیانات پر تنقید اور متناسب نمائندگی کی پابندی کے مراحل سے کامیابی سے گزر کر حتمی نامزدگی تک پہنچا اتنا آسان نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں