برونڈی میں تشدد کے واقعات میں 87 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption برونڈی میں جولائی میں متنازع انتخابات کے بعد سے احتجاج جاری ہے

افریقہ کے ملک برونڈی میں فوج کے تین مراکز پر حملوں اور اس کے بعد تشدد کے واقعات میں کم از کم 87 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فوج کے ایک ترجمان کرنل گرسپراڈ براٹوزا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں آٹھ سکیورٹی افسران شامل ہیں جبکہ 49 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

’79 دشمن مارے گئے، 45 کو گرفتار کیا گیا جبکہ 97 ہتھیار برآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ فوجی اور پولیس کے آٹھ اہلکار ہلاک اور 21 زخمی ہوئے۔‘

دارالحکومت بوجمبورا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ شہر کی گلیوں سے 34 افراد کی لاش ملے ہیں۔

رہائشیوں نے پولیس پر انتقامی کارروائیوں کا الزام عائد کیا ہے۔

برونڈی میں جولائی میں متنازع انتخابات کے بعد صدر پیرا نکورونزیزا کی جانب سے تیسری مدت کے لیے صدر منتخب ہونے کے فیصلے کے بعد سے مظاہرے جاری ہیں۔

احتجاج کے بعد سے جمعے کو تشدد کے سب سے زیادہ واقعات پیش آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مسلح حملہ آوروں نے منظم انداز میں فوج کے تین مختلف مراکز پر حملے کیے۔

اس کے بعد شروع ہونے والی لڑائی سارا دن اور رات تک جاری رہی جس میں مختلف علاقوں میں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔

حکومت مخالف مظاہروں کے مضبوط گڑھ ضلع نیاکبیگا میں سب سے زیادہ لاشیں ملی ہیں۔

ایک عینی شاہد نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک شدگان میں بچے بھی شامل ہیں اور انھیں سر پر گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

بی بی سی افریقہ کے تجزیہ کار رچرڈ ہملٹن کا کہنا ہے کہ دارالحکومت سے اکثر اوقات لاشیں برآمد ہوتی تھیں لیکن ایک دن میں ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

اسی بارے میں