لندن میں شام پر بمباری کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ریلی میں شریک افراد نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر شام میں بمباری بند کرنے اور دیگر حکومت مخالف نعرے درج تھے

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں حکومت کی جانب سے شام میں کی جانے والی فضائی کارروائی کے خلاف ایک ریلی نکالی گئی جس میں ملک بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔

سنیچر کو منعقد کی جانے والی اس ریلی کا انعقاد جنگ مخالف گروہ ’سٹاپ دی وار کولیشن‘ نے کیا تھا۔ ریلی میں طلبہ اور مزدور تنطیموں کے علاوہ دیگر جنگ مخالف گرہوں کے نمائندے بھی موجود تھے۔

شام میں بمباری کے خلاف احتجاج کی تصاویر

برطانوی دارالعوام نے شام میں فضائی حملوں کی منظوری دے دی

اس موقعے پر ریلی کے ایک منتظم ٹام جونز نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ امید کر رہے ہیں اگلے چند گھنٹوں میں مزید ہزاروں افراد ریلی میں شامل ہوں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم برطانیہ کی سیاسی قیادت اور خصوصاً وزیراعظم ڈیویڈ کیمرون کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں آپ ہمیں دہشت گردی کے خطرے سے ڈرا کر غیر قانونی جنگوں کے لیے ہماری حمایت حاصل نہیں کرسکتے۔ بر طانیہ کے عوام باشعور ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ معصوم شہریوں پر بمباری کر کے ہم اپنے ملک کو محفوظ نہیں بناسکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ریلی کا آغاز بی بی سی لندن کے دفاتر کے باہر سے ہوا

ریلی میں شریک افراد نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر شام میں بمباری بند کرنے اور دیگر حکومت مخالف نعرے درج تھے۔ اس موقعے پر کچھ لوگوں نےگانے گا اور رقص کر کے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

برطانیہ کے کے علاقے وئلٹشائر سے خصوصاً ریلی میں شرکت کرنے کے لیے آنے والی ایک خاتون ایما ٹیلر کا کہنا تھا کہ ’برطانیہ کا داعش پر بمباری کا فیصلہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جو امریکہ اور دیگر اتحادیوں کو خوش کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔کیا چند ہزار دہشت گردوں پر قابو پانے کے لیے امریکی فوجی طاقت کافی نہیں ہے۔بمباری سے اہم ہے کہ دہشت گردوں کی مالی امداد کو روکا جائے۔‘

ریلی کا آغاز بی بی سی لندن کے دفاتر کے باہر سے ہوا اور یہ وسطی لندن کے مخلتف راستوں سے ہو تے ہوئے برطانوی وزیرِ اعظم کی رہائشگاہ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ پہنچ کر ختم ہوئی جہاں مقررین نے خطاب بھی کیا۔

مقررین نے شام کے حوالے سے مغربی طاقتوں کی حکمتِ عملی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق کی جنگ سے کچھ نہیں سیکھا، وہ ایک بار پھر وہی غلطی دوہرا رہے ہیں اور دوسرے ممالک پر بمباری کر کے عالمی امن نہیں حاصل کیا جاسکتا۔

اسی بارے میں