’سکول بند کروانے کا فیصلہ انتہائی احتیاط کا نتیجہ‘

Image caption لاس اینجلس میں سکولوں کی بندش کے فیصلے سے سات لاکھ کے قریب طلبا متاثر ہوئے تھے

امریکہ میں ریاست کیلیفورنیا کے دارالحکومت لاس اینجلس میں حکام نے مبینہ دھمکی آمیز ای میل ملنے کے بعد تمام سکول بند کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔

شہر کے میئر ایرک گارسیتی نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ’انتہائی احتیاط‘ برتنے کا نتیجہ تھا۔

سکولوں کی بندش کی وجہ سے سات لاکھ کے قریب طلبا اس وقت متاثر ہوئے جب یا تو انھیں سکول سے واپس گھر بھیج دیا گیا یا سکول کی بسیں انھیں لینے کے لیے روانہ ہی نہ ہوئیں۔

امریکی کانگریس کی انٹیلیجنس کمیٹی کے ایک رکن نے منگل کی شب کہا ہے کہ لاس اینجلس میں دی جانے والی دھمکی نیویارک کے حکام کو دی گئی دھمکی جیسی ہی تھی اور دونوں بےضرر دھمکیاں تھیں۔

خیال رہے کہ نیویارک میں حکام نے اس دھمکی کو خاطر میں نہ لانے کا فیصلہ کرتے ہوئے نظرانداز کر دیا تھا۔

اس سے قبل لاس اینجلس پولیس کے سربراہ سٹیون زیپرمین کا کہنا تھا کہ ’ہمیں منگل کی صبح دھمکی ملی موصول ہوئی ہے جس میں ہمارے سکولوں کو خطرے کا ذکر کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اپنے سکولوں کو ایک دن کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک ہمیں اس بات کا مکمل طور پر اطمینان نہیں ہو جاتا کہ ہمارے سکول مکمل طور پر محفوظ ہیں۔‘

لاس اینجلس حکام کا کہنا ہے کہ کیلیفورنیا میں ہونے والی شدت پسندی کے واقعے کے بعد احتیاط برتنا ضروری ہے۔

’یہ دھمکی کسی ایک یا دو یا چار سکولوں کو نہیں تھی بلکہ کسی خاص سکول کا نام نہیں لیا گیا۔ لیکن کئی سکولوں کو دھمکی دی گئی تھی۔ اسی لیے ہم نے سکول بند کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

نیویارک کی پولیس کے سربراہ ولیم بریٹن نے لاس اینجلس میں سکول بند کیے جانے کو بوکھلاہٹ قرار دیا ہے۔

اسی بارے میں