لیبیا کے حریف قانون سازوں نے معاہدے پر دستخط کر دیے

تصویر کے کاپی رائٹ AP

لیبیا کے حریف قانون سازوں نے ملک میں چار سالوں سے جاری تنازعے کے خاتمے اور متحدہ حکومت کی تشکیل کے لیے مراکش میں اقوامِ متحدہ کے زیرِ اہمتام ہونے والے ایک معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیفر مارٹن کوبلر نے اس معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ لیبیا نے ملک میں مفاہمت اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے لیبیا کی پارلیمان کے حریف سربراہان اپنے اختلافات کے باعث کسی معاہدے پر دستخط کرنے میں ناکام رہے تھے۔

لیبیا کے بڑے حصے پر قابض مسلح گروہ ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ نیٹو کی حمایت یافتہ افواج نے سنہ 2011 میں لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا جس کے بعد سے لیبیا افرا تفری کا شکار ہے۔

لیبیا میں اس وقت دو حریف حکومتیں قائم ہیں، جن میں سے ایک مرکزی شہر تریپولی جبکہ دوسری وہاں سے 1,000 کلو میٹر کے فاصلے پر توبروک میں موجود ہے۔

لیبیا میں جاری بحران کے باعث یورپ کا سفر کرنے والے ہزاروں تارکینِ وطن کے لیے لیبیا روانگی کا ایک اہم مقام بن گیا ہے۔

اس صورتِ حال کے باعث بین الاقوامی سطح پر یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم اس کا فائدہ اٹھا کر لیبیا کے اندر خود کو مضبوط بنا رہی ہے۔

لیبیا میں اقوامِِ متحدہ کے سیفر مارٹن کوبلر کا کہنا تھا کہ نئی حکومت کو ملک کی انسانی صورتِ حال، دولتِ اسلامیہ کے خلاف جاری لڑائی اور دیگر جہادی گروہوں سے نمٹنا ہو گا۔

انھوں نے لیبیا کے حریف قانون سازوں سے کہا کہ آپ کو یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ یہ ایک مشکل سفر ہے اور ملک میں قومی مفاہمت کی شدید ضرورت ہے۔

اسی بارے میں