’سان برنارڈینو کے حملہ آور جوڑے کا دوست گرفتار‘

تصویر کے کاپی رائٹ ABC NEWS
Image caption انریق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ہی حملے میں استعمال ہونے والی دو بندوقیں خریدیں تھیں

امریکی حکام نے کیلیفورنیا میں 14 افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کرنے والے مجرم جوڑے کے ایک دوست کو حراست میں لے لیا ہے۔

محکمۂ انصاف کے مطابق انریق مارکیز نامی شخص پر دہشت گردی کی کارروائیوں کی سازش کرنے اور اسلحے اور دھماکہ خیز مواد کی غیرقانونی خریداری کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

’حملہ آور باہمی ملاقات قبل ہی شدت پسندی کی جانب مائل تھے‘

24 سالہ انریق کی خریدی ہوئی دو بندوقیں رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین ملک نے حملے میں استعمال کی تھیں۔

ان پر الزام ہے کہ ان کے خریدے گئے دھماکہ خیز مواد سے ہی وہ پائپ بم تیار کیا گیا جو حملہ آور جائے وقوع پر نصب کر گئے تھے۔

انریق اس جوڑے کے سابق ہمسائے اور دوست تھے تاہم ان کا کہنا ہے کہ انھیں رضوان اور تاشفین کے حملہ کرنے کے کسی منصوبے کا علم نہیں تھا۔

تاشفین نے رضوان فاروق کے ہمراہ دو دسمبر کو سان برنارڈینو کے علاقے میں رضوان کے دفتر کی کرسمس سے متعلقہ تقریب کے دوران فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک اور 20 کو زخمی کر دیا تھا۔

یہ دونوں حملے کے کچھ گھنٹے بعد پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انریق کا کہنا ہے کہ انھیں رضوان اور تاشفین کے حملہ کرنے کے کسی منصوبے کا علم نہیں تھا

ابتدائی تحقیقات کے بعد امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے کہا تھا کہ یہ جوڑا ایک دوسرے سے آن لائن ملاقات سے قبل ہی شدت پسندی کی جانب مائل تھا۔

خیال رہے کہ رضوان فاروق ایک امریکی شہری تھے جبکہ ان کی اہلیہ تاشفیق کا تعلق پاکستان سے تھا تاہم وہ سعودی عرب سے منگیتر کے ویزے پر امریکہ آئی تھیں۔

گذشتہ روز ایف بی آئی کے سربراہ جیمز کومی نے ان اطلاعات کو مسترد کیا تھا کہ ان دونوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کھلے عام جہاد کی حمایت کا اظہار نہیں کیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین ملک نے ’براہ راست نجی پیغاموں‘ کے ذریعے شہادت کی حمایت کی تھی۔

بدھ کو نیویارک میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے جیمز کومی نے یہ بھی کہا کہ اس بات کا اب تک کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا ہے کہ حملہ آور کسی منظم جہادی گروپ کا حصہ تھے۔

اسی بارے میں