امریکہ اور کیوبا میں کمرشل پروازیں بحال ہوں گی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکہ نے 54 سال کی غیر موجودگی کے بعد اگست میں کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول لیا ہے

امریکہ اور کیوبا میں دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ تجارتی پروازیں دوبارہ سے شروع کرنے کے حوالے سے اتفاق ہوگیا ہے۔

نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کیوبا اور امریکہ کے حکام نے بتایا کہ یہ اعلان ناگزیر تھا۔

کیوبا اب دہشتگردوں کی سرپرستی نہیں کرتا

امریکہ اور کیوبا کے سفارتی تعلقات 50 برس بعد دوبارہ بحال

یہ بات واضح نہیں ہے کہ پروازوں کا آغاز کب سے ہوگا کیوں کہ کیوبا کی حکومت اور امریکی ایئر لائنوں کے درمیان مذاکرات میں کئی ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

تقریباً ایک سال قبل جب سابقہ سرد جنگ کے دشمنوں نے ایک دوسرے کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کرنا شروع کیے تھے اس کے بعد یہ ایک بہت اہم قدم ہے۔

امریکہ نے 54 سال کی غیر موجودگی کے بعد اگست میں کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھول لیا ہے۔

بدھ کے روز واشنگٹن میں دونوں ممالک میں اتفاق ایک بہت اہم کامیابی ہے جس کے بعد کیوبا اور امریکہ کے درمیان کئی مسائل پر مذاکرات ہوں گے جس کے نتیجے میں امریکہ تجارتی پابندیاں اُٹھا سکتا ہے۔

یہ اعلان رواں سال امریکہ اور کیوبا کے درمیان سیاحت میں ایک اندازے کے مطابق 50 فی صد سے زائد اضافہ ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔

ہزاروں کی تعداد میں امریکی شہری پہلے ہی کیوبا کے جزیروں میں سیاحت کے لیے موجود ہیں اور وہاں کے ہوٹل اور ہوسٹل کئی کئی مہینوں کے لیے بُک ہورہے ہیں۔

لیکن وہ لوگ جو سیاحت کے لیے یہاں آرہے ہیں اُن کے لیے چارٹر پروازوں کی بُکنگ یا کسی تیسرے ملک کے راستے کیوبا آنا مشکل بن چکا ہے۔

حکام کے مطابق ’ایک رسمی معاہدے کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ایک دن کے دوران ایک درجن سے زائد پروازیں امریکہ سے کیوبا پہنچیں گی۔

اسی بارے میں