لیبیا کی ملیشیا نے امریکی فوجی واپس بھجوا دیے

تصویر کے کاپی رائٹ Libyan Air Force
Image caption جدید ہتھیاروں سے لیس امریکی فوج کے خصوصی دستے کے 20 اہلکار پیر کو مغربی لیبیا کے ہوائی اڈے پر اترے تھے

لیبیا کی فوج کی مدد کرنے کے لیے جانے والے امریکی فوجیوں کو لیبیا کی مقامی ملیشیا کے مطالبے پر کو فوراً ہی واپس لوٹنا پڑ گیا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جدید ہتھیاروں سے لیس امریکی فوج کے خصوصی دستے کے 20 اہلکار پیر کو مغربی لیبیا کے ہوائی اڈے پر اترے تھے۔

لیبیا کے حریف قانون سازوں نے معاہدے پر دستخط کر دیے

لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کے سربراہ پر امریکی حملہ

یو ایس افریقہ کمانڈ کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ان فوجیوں کے لیبیا چھوڑنے کا فیصلہ کسی قسم کے تنازعے سے بچنے کے لیے کیا گیا۔

لیبیا میں صدر قذافی کی 2011 میں معذولی کے بعد سے بدامنی کا عالم ہے۔

یہاں دو مخالف حکومتیں ہیں ایک طرابلس میں جبکہ دوسری اس سے ہزار کلو میٹر دور تبروک میں قائم ہے۔

دونوں کے درمیان ایک متحد حکومت کے قیام کے لیے جمعرات کو مراکش میں ایک معاہدہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ نیٹو کی حمایت یافتہ افواج نے سنہ 2011 میں لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کو اقتدار سے ہٹا دیا تھا جس کے بعد سے لیبیا افراتفری کا شکار ہے۔

لیبیا میں جاری بحران کے باعث یورپ کا سفر کرنے والے ہزاروں تارکینِ وطن کے لیے لیبیا روانگی کا ایک اہم مقام بن گیا ہے۔

اس صورتِ حال کے باعث بین الاقوامی سطح پر تشویش پائی جاتی ہے کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم اس کا فائدہ اٹھا کر لیبیا کے اندر اپنی جڑیں مضبوط نہ کر لے۔

اسی بارے میں