’ترکی میں کرد جنگجوؤں کو بد نظمی پیدا نہیں کرنے دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نومبر میں پولیس اور نامعلوم مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کرد نواز وکیل گولی لگنے سے ہلاک اور گئے تھے

ترکی کے وزیر اعظم احمد داؤد اوغلو کا کہنا ہے کہ وہ ملک کے جنوب مشرقی شہروں میں کرد جنگجوؤں کو ’بد نظمی‘ پیدا کرنے نہیں دیں گے۔

بدھ سے باغیوں کے خلاف شروع ہونے والے بڑے فوجی آپریشن میں ترکی کا کہنا ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے 70 مشتبہ اہلکار اور دو فوجی مارے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ جولائی میں جنگ بندی کے معاہدے اور تنازع کو ختم کرنے کے لیے ہونے والے مذاکرات کو ختم کر دیا گیا تھا۔

ترک وزیر اعظم داؤد اوغلو کا کہنا تھا کہ حکومت پی کے کے اور ان کے حمایتیوں کی جانب سے اس تنازع کو طول دینے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ کی جدوجہد شہروں میں بدنظمی پیدا کرنا ہے تو ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے اور اگر ان کی جد وجہد ترکی سے الگ ہونے کی ہے تو ہم کبھی اجازت نہیں دیں گے۔‘

واضح رہے کہ ترکی کے جنوب مشرقی شہر دیار باقر میں نومبر میں پولیس اور نامعلوم مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں کرد نواز وکیل گولی لگنے سے ہلاک اور گئے تھے۔ اس واقع میں دو پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے ، جس کے بعد سے شہر کے بعض حصوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔۔

سنہ 1984 میں پی کے کے کی جانب سے مسلح مہم کے آغاز ہونے سے اب تک تقریباً 40 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں