ترکی کے قریب کشتی الٹنے سے 18 تارکینِ وطن ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترکی کے کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ چودہ افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے تاہم بچوں سمیت 18 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں

ترکی کا کہنا ہے کہ سمندر میں کشتی الٹنے کے نتیجے میں کم سے کم 18 تارکینِ وطن ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترکی کے کوسٹ گارڈز کے مطابق کشتی کا یہ حادثہ جنوبی ترکی کی سمندری حدود میں جمعے کو رات گئے پپیش آیا۔

پناہ گزینوں کے خطرناک بحری سفر کی کہانی

انسانی سمگلنگ کے خلاف یورپی یونین کے ’آپریشن صوفیہ‘ کا آغاز

لکڑی کی اس کشتی میں شام اور عراق سے تعلق رکھنے والے تارکینِ وطن بھرے ہوئے تھے اور وہ یونان کے ساحل تک جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان کی کشتی خلیجِ بوڈرم میں اُلٹ گئی۔

ترکی کے کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ چودہ افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے تاہم بچوں سمیت 18 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔

یونان کے بعض جزیرے ترکی کے ساحل سے محض چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقعے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ یہ تارکینِ وطن کے لیے یورپ میں داخلے کی پرکشش منزل بن گئے ہیں۔

گذشتہ ایک برس ہزاروں افراد نے شمالی اور مغربی یورپ میں داخلے کے لیے یہ مختصر لیکن خطرناک سفر کیا ہے۔ بگڑتی ہوئی موسمی صورتحال کے باعث یہ سفر معمول سے زیادہ خطرناک ہو گیا ہے۔

مہاجرین سے متعلق عالمی تنظیم کے مطابق سات لاکھ اکیاسی ہزار افراد رواں برس یونان کے ساحل پر پہنچے ہیں۔ زیادہ تر ترکی کے راستے ہی آئے۔

اقوامِ متحدہ کے مہاجرین سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ رواں برس کم سے کم ساڑھے نو لاکھ افراد یورپ پہنچے ہیں۔

اسی بارے میں