شام: مبینہ روسی فضائی کارروائی میں 43 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ادلب صدر بشار الاسد کی حمایت کےگڑھ صوبہ لتاکیا کے قریب واقع ہے

شام کے شہر ادلب کے رہائشیوں اور سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر روس کی جانب سے کی جانے والی فضائی کارروائی میں کم از کم 43 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق دکانوں، مکان اور سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ شہری دفاع کے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ ملبے سے ابھی بھی لاشیں نکالی جارہی ہیں۔

ادلب شہر پر باغیوں کا قبضہ

’ایک تہائی شامی باغیوں اور دولتِ اسلامیہ کا نظریہ ایک‘

شام کا بحران: جہادی جنگجوؤں کا ادلب کے اہم ہوائی اڈے پر قبضہ

روس نے علاقے میں فضائی کارروائی کی تصدیق نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ روس رواں برس ستمبر سے شام میں فضائی کارروائی کر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ صرف دولتِ اسلامیہ اور دیگر شدت پسند گروہوں کو نشانہ بناتا ہے۔

دوسری جانب شامی حزبِ مخالف روس پر مغربی طاقتوں کے حمایت یافتہ اعتدال پسند گروہوں کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتی آئی ہے۔

علاقے میں موجود حکومت مخالف کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں 170 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ دمشق اور حلب کو ملانے والی اہم شاہراہ کے قریب واقع شہر ادلب پر سال کے اوائل میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف برسرپیکار اسلامی گروہوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

ادلب صدر بشار الاسد کی حمایت کےگڑھ صوبہ لتاکیا کے قریب واقع ہے۔

شام میں چار سال قبل شروع ہونے والی خانہ جنگی میں اب تک دو لاکھ سے زیادہ لوگ ہلاک اور ایک کروڑ سے زیادہ شہری پناہ کے لیے ہجرت پر مجبور ہو چکے ہیں۔

حالیہ عرصے میں یورپ آنے والے پناہ گزینوں میں بھی بڑی تعداد کا تعلق شام سے ہے۔

اسی بارے میں