بےگھر افراد کے لیے ایرانیوں کی’دیوار مہربانی‘

تصویر کے کاپی رائٹ TwitterHamedKOP
Image caption بظاہر دیوار مہربانی کی ابتدا ایران کے معروف شہر مشہد سے ہوئی ہے

موسم سرما کی ٹھنڈک اور معاشی بدحالی سے دوچار ایرانی باشندوں نے از خود رضاکارانہ طور پر گھر سے باہر خیراتی مہم شروع کر رکھی ہے۔

ان کی اس ’دیوار مہربانی‘ جو کہ ایران کے اہم شہروں میں نظر آ رہی ہے اس نے غریبوں کی امداد کی کوششوں کے بارے میں انٹرنیٹ پر ایک قسم کا مذاکرہ چھیڑ دیا ہے۔

اس کی ابتدا بظاہر ایران کے شمال مشرقی شہر مشہد میں ہوئی جہاں کسی شخص نے اپنی دیوار پر چند لباس ٹانگ دیے اور وہاں یہ بھی لکھ دیا کہ ’اگر آپ کو ان کی ضرورت نہیں تو اسے رہنے دیں، اور اگر ضرورت ہے تو لے جائیں۔‘

اس کے ساتھ ہی لوگوں نے کوٹ، پینٹ اور دوسرے گرم ملبوسات وہاں لاکر رکھنا شروع کر دیے۔

مقامی میڈیا کے مطابق جس شخص نے اس دیوار مہربانی کی ابتدا کی وہ گمنام رہنا چاہتا ہے۔ لیکن ان کا یہ انداز تیزی سے دوسرے شہروں میں پھیل گیا اور ہزاروں ایرانیوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے اس کو پھیلانے میں اہم کردار نبھایا ہے۔

اس تحریک کو ملک میں جاری سرد موسم کی سختی کے ساتھ مقبولیت ملی۔ بہت سے سوشل میڈیا کے صارفین نے ان دیواروں کی تصاویر پوسٹ کیں اور یہ لکھا کہ ’کوئی بھی (بے گھر) اس موسم سرما میں سردی سے نہ ٹھٹھرے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter islanded
Image caption ایک شخص نے لکھا کہ دیواریں دوری کا احساس دلاتی ہیں لیکن شیراز کی بعض دیواریں لوگوں میں قربت کا باعث بنی ہیں۔

ایک صارف نے فیس بک پر لکھا: یہ عظیم پہل ہے۔ امید کہ یہ پورے ایران میں پھیل جائے۔

ایک دوسرے نے لکھا: ’دیواریں دوری کا احساس دلاتی ہیں لیکن شیراز کی بعض دیواریں لوگوں میں قربت کا باعث بنی ہیں۔‘

بہر حال بعض لوگ اس از خود تحریک کو اس نقطۂ نظر سے دیکھ رہے ہیں کہ حکومت لوگوں کے ساتھ کیے جانے والے اپنے عہد پر پوری نہیں اتری ہے۔

ایک فیس بک کے صارف نے کہا: ’اتنی ساری دولت سے مالامال ملک میں لوگ ایک دوسرے کی مدد کر رہے ہیں۔ جن کے ہاتھ میں باگ ڈور ہے ان میں عوام کا سا جذبہ نہیں ہے۔‘

ایک دوسرے نے لکھا: ’اس ملک کے پاس جتنی دولت ہے اگر کوئی عقلمند اور ہمدرد رہنما ہوتا تو ملک میں کوئی بھی ضرورت مند انسان نہیں ہوتا۔‘

جولائی میں ہونے والے جوہری معاہدے کے بعد اور صدر حسن روحانی کے بہتر مستقبل کے وعدے کے بعد بھی ایران تنہائی کا شکار ہے اور وہاں کساد بازاری جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق بہت سے ایرانی اس سے بری طرح متاثر ہیں اور بڑے شہروں میں بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter far in
Image caption دیوار مہربانی کو سوشل میڈیا کے ذریعے بہت حد تک وسعت ملی

سرکاری اعداد و شمار کے اعتبار سے ملک میں 15 ہزار بے گھر افراد ہیں جبکہ دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ اتنے تو صرف دارالحکومت میں ہی ہیں اور مجموعی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

ایک انسٹاگرام کے صارف نے کہا: ’ہمیں اس کا تدارک خود ہی کرنا ہے۔ زندگی بہت مختصر ہے۔ آپ جنتے مہربان ہو سکتے ہوں۔‘

فیس بک پر ایک دوسرے صارف نے لکھا: ’ہم لوگ ہی میڈیا ہیں۔ اس دیوار مہربانی کی تصویریں شیئر کرکے ہم نے یہ بتا دیا ہے کہ ہم خبر بناتے ہیں۔‘

دیوار مہربانی اسی طرح کا تصور ہے جسے بعض لوگوں نے پیان کرتنخوابی یعنی بے گھری کا خاتمہ کے نام سے چلی تھی۔ جس میں لوگوں نے اپنے فرج گھر سے باہر رکھ دیے تھے تاکہ لوگ بے گھر بے در لوگوں کے لیے کھانا رکھ جائیں۔

اسی بارے میں