’ایک تہائی شامی باغیوں اور دولتِ اسلامیہ کا نظریہ ایک‘

Image caption مذہب اور علاقائی سیاست سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ اصل خطرہ وہ گروہ ہیں جو دولتِ اسلامیہ کا ہی نظریہ رکھٹے ہیں لیکن انھیں نظر انداز کیا جا رہا ہے

ایک تحقیق کے مطابق اگر شام میں نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ کو امریکی قیادت میں قائم اتحاد کے ہاتھوں شکست ہوتی ہے تو شام کی کم سے کم 15 جنگجو تنظیمیں اس کی جگہ لے لیں گی۔

سابق برنوی وزیرِ اعظم کے ’مذہب اور علاقائی سیاست سے متعلق ادارے‘ کا کہنا ہے کہ کم سے کم ساٹھ فیصد شامی باغی شدت پسند ہیں۔

شام میں اعتدال پسند جنگجوؤں کی تعداد کتنی؟

’شام میں کم از کم 27 ہزار غیر ملکی جنگجو برسرِپیکار ہیں‘

رپورٹ کے مطابق عالمی طاقتوں کی جانب سے معتدل اور شدت پسند گروہوں کے درمیان فرق کرنے کے صلاحیت انتہائی کمزور ہے۔

مغربی ممالک شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کر رہے ہیں۔

تاہم مذہب اور علاقائی سیاست سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ اصل خطرہ وہ گروہ ہیں جو دولتِ اسلامیہ کا ہی نظریہ رکھتے ہیں لیکن انھیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ادارے کے مطابق یہ کم سے کم ایک لاکھ جنگجو ہیں۔

ادارے کے بقول ’مغرب کی جانب سے کیے جانے والے فضائی حملوں میں محض دولتِ اسلامیہ کو نشانے بنانا سٹریٹیجک غلطی ہے۔‘

فوجی طاقت سے انھیں شکست دے کی ہم جہادیت کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ نظریے پر بمباری نہیں ہوسکتی، ہماری جنگ نظریاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ادارے کے مطابق دولتِ اسلامیہ جیسا نظریہ رکھنے والے شامی باغیوں کی تعداد کم سے کم ایک لاکھ ہے۔

ادارے کے مطابق ’اگر دولتِ اسلامیہ کو شکست ہوتی ہے تو جنگجو اور شدت پسند شام سے باہر حملے کر دیں گے یہ کہتے ہوئے کہ مغرب نے ان کی خلافت کو تباہ کر دیا۔‘

ایسے نئی گروہ توجہ کا مرکز بننے کے لیے دنیا بھر سے ان جنگجوؤں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ اتحاد قائم کریں گے جن کے ساتھ اس وقت دولتِ اسلامیہ کا تعلق ہے۔

ادارے کے مطابق محض ایک تہائی شامی باغی نظریاتی نہیں ہیں۔

لیکن ان میں سے بھی متعدد شدت پسندوں کے ہمراہ لڑنے کے خواہشمند تھے اور شاید وہ خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے کسی قسم کی اسلامی سیاسی معاہدے کو قبول کر لیں۔

مذہب اور علاقائی سیاست سے متعلق ادارے کا کہنا ہے کہ ’فوجی کارروائی کے ساتھ ساتھ اس نظریے کی شکست کے لیے معلوماتی اور مذہبی شکست کے لیے بھی کام کرنا چاہیے۔‘

اس کے مطابق شامی صدر بشار الاسد عہدہ چھوڑتے ہیں یا انھیں برطرف کیا جاتا ہے دونوں صورتوں میں شام میں جاری لڑائی پھیلے گی۔

اسی بارے میں