سعودی عرب میں اصلاح پسند مصنف کو سزا

تصویر کے کاپی رائٹ Rotana Khaleejia

سعودی عرب میں اطلاعات کے مطابق سیاسی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے اصلاح پسند مصنف زھیر کتبی کو چار سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

زھیر کتبی کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کے موکل کی دو سال کی سزا کو معطل کر دیا گیا ہے تاہم ان پر 15 سال لکھنے، پانچ سال تک بیرونِ ملک سفر کرنے کی پابندی کے علاوہ 26,600 ڈالر جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

سزا یافتہ سعودی بلاگر کے لیے ایک اور ایوارڈ

مقیّد سعودی بلاگر کے لیے آزادئ اظہار کا اہم ایوارڈ

سعودی بلاگر کو ایک ہزار کوڑوں کی سزا برقرار

زھیر کتبی کو قصور وار ٹھہرانے کے لیے جو الزامات عائد کیے ہیں وہ ابھی واضح نہیں ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ زھیر کتبی نے ٹی وی پر کہا تھا کہ سعودی عرب میں آئینی بادشاہت ہونے چاہیے کے بعد جولائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں 62 سالہ زھیر کتبی کو جیل بھجوانے کا یہ تازہ واقعہ ہے اس سے پہلے انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں، اصلاح پسندوں، صحافیوں اور مخالفین کو بھی جیل بھیجا جا چکا ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ زھیر کتبی کو سعودی عرب میں اصلاحات کا مطالبہ کرنے اور جیل کے حالات پر تنقید کرنے پر سنہ 1990 کی دہائی کے بعد سے کم سے کم تین بار جیل کی سزا اور جرمانہ عائد کیا جا چکا ہے۔

اطلاعات کے مطابق زھیر کتبی کو میبنہ طور پر تحریری، نشریاتی میڈیا اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے عوامی مسائل پر بات چیت کرنے سے باز رکھنے کے لیے ایک عہد نامے پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ زھیر کتبی نے 22 جون کو ایک سیٹلائیٹ ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب میں مذہبی اور سیاسی جبر کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اصلاحات کے علاوہ سعودی عرب کو ایک آئینی بادشاہت میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔

زھیر کتبی کے اس تبصرے کو سوشل میڈیا پر بڑی توجہ حاصل ہوئی تھی جس کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے انھیں مکہ شہر سے 15 جولائی کو گرفتار کر لیا تھا۔

اسی بارے میں