سپین میں ووٹ تقسیم، مشکل اتحاد کا سامنا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قدامت پسند پاپولر پارٹی محض 29 فیصد ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان انتخابات میں ووٹ بڑے پیمانے پر تقسیم ہوا ہے

سپین کے حالیہ عام انتخات میں دو نئی جماعتوں کے تقریباً ایک تہائی نشستیں حاصل کرنے کے بعد ملک کو غیر یقینی سیاسی صورت حال کا سامنا ہے۔

سخت قوانین کی مخالفت کرنے والی پودیموس پارٹی اور لبرل خیالات کی حامی سیودادینوس کی اس بڑی کامیابی کے بعد قدامت پسند پاپولر پارٹی نے اپنی اکثریت کھو دی ہے۔

پودیموس پارٹی کے سربراہ پابلو ایگلی سیاس نے کہا ہے کہ ’سپین اب پہلے کی طرح نہیں رہے گا، جس کے لیے ہم بہت خوش ہیں۔‘

سپین میں گذشتہ تین دہائیوں سے پاپولر پارٹی اور سوشلسٹ پارٹی باری باری حکومت میں آتی رہی ہیں۔

اب ان پارٹیوں کو حکومت بنانے کے لیے دوسری پارٹیوں سے جوڑ توڑ کرنا پڑے گا۔

ان انتخابات میں پاپولر پارٹی نے کل 7.28 فیصد اور سوشلسٹ پارٹی نے 22 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ پودیموس اور سیودادینوس کو بالترتیب 6.20 اور 8.13 فیصد ووٹ ملے ہیں۔

قدامت پسند پاپولر پارٹی محض 29 فیصد ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان انتخابات میں ووٹ بڑے پیمانے پر تقسیم ہوا ہے۔

اس وقت پاپولر پارٹی کو دوبارہ حکومت بنانے کے لیےدوسری پارٹیوں کی حمایت حاصل کرنا ہو گی۔

سخت قوانین کی مخالفت کرنے والی پودیموس سپین کے مالی بحران کے دوران وجود میں آئی ہے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کی نئی اور مضبوط سیاسی قوت ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بدعنوانی اور سخت قوانین کے عام ہونے کے بعد ملک کا سیاسی نقشہ واضح طور پر تبدیل ہوا ہے

یہ بھی ممکن ہے کہ یہ پارٹی دیگر چھوٹی پارٹیوں کے ساتھ مل کر بائیں بازو کا اتحاد بنا لے۔ یہ اتحاد آزادی کی حامی کیٹالان کی پارٹیوں کی حمایت سے حکومت میں بھی آ سکتا ہے۔

لیکن سپین میں لوگ گذشتہ کئی دنوں اور ہفتوں سے اپنے ملک کی نئی حکومت کے بارے میں قیاس آرائیاں کر رہے ہیں۔

بدعنوانی اور سخت قوانین کے عام ہونے کے بعد ملک کا سیاسی نقشہ واضح طور پر تبدیل ہوا ہے۔

پاپولر پارٹی کے سربراہ ماریانو روہوئے نے کہا ہے کہ وہ حکومت بنانے کی کوشش کریں گے اور اصرار کیا کہ ’ان کی پارٹی ابھی بھی سپین کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے۔‘

تاہم ماریانو روہوئے نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ان کی پارٹی نے گذشتہ چار سالوں میں سپین کے مالی بحران سے نمٹتے ہوئے کئی ’مشکل اور غیر مقبول فیصلے کیے۔‘

سوشلسٹ پارٹی کے سربراہ پیدرو سانچیس نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی حکومت بنانے کے لیے مذاکرات کرنے کو تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’سپین بائیں بازو کی سیاست کی جانب مڑنا چاہتا ہے۔‘

گذشتہ چار سالوں کے دوران سپین میں غربت میں اضافہ ہوا ہے، جسے پودیموس پارٹی کے مقبولیت حاصل کرنے کی ایک بڑی وجہ بتایا جا رہا ہے۔

پارٹی کا دعویٰ ہے کہ اس نے کیتالونیا اور باسک کےعلاقے میں کسی بھی دوسری پارٹی کے مقابلے میں سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ وہ میڈرڈ میں وہ سب سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے والی دوسری بڑی پارٹی ہے۔ پارٹی کے نائب قائد اینیگو ایریحون کا کہنا ہے کہ ’اکثریت کا ان روایتی پارٹیوں پر سے اعتبار اٹھ گیا ہے اور اب ملک سے دو پارٹیوں کے نظام کا خاتمہ بھی ہوگیا ہے۔‘

پودیموس پارٹی کی کامیابی پر یونانی وزیر اعظم الیکسس تسیپراس نے بھی مبارک باد دی ہے۔ تسیپراس کی سیریزا پارٹی پودیموس پارٹی کی حامی ہے۔

تسیپراس نے کہا کہ یہ نتائج اس بات کی جانب اشارہ ہیں کہ یورپ تبدیل ہورہا ہے اور سپین میں ظلم کو سیاسی شکست دی جا چکی ہے۔

اسی بارے میں