آئی او ایم: ’دس لاکھ پناہ گزین اس سال یورپ داخل ہو چکے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پناہ گزینوں کی اکثریت شام، عراق اور افغانستان سے ہے

مہاجرین کے عالمی ادارے آئی او ایم نے کہا ہے کہ اس سال مشرق وسطیٰ سے یورپ آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

گذشتہ سال کے مقابلے میں یہ چار گنا اضافہ ہے۔

پناہ گزینوں کی اکثریت شام، عراق اور افغانستان سے ہے اور یہ سمندر کے راستے یورپ پہنچے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ان میں تقریباً آٹھ لاکھ ترکی سے یونان سفر کرتے ہوئے یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔

آئی او ایم کے مطابق اب 3696 پناہ گزین کشتی الٹنے سے ڈوب کر ہلاک ہو گئے ہیں یا پھر اب بھی لاپتہ ہیں۔

دس لاکھ کی تعداد کا تعین چھ یورپی ممالک سے اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہوئے کیا گیا ہے جس میں یونان، بلغاریہ، اٹلی سپین، مالٹا اور قبرص شامل ہیں۔

ان میں سے ساڑھے چار لاکھ کے قریب پناہ گزین شام سے ہیں جبکہ 18600 کا تعلق افغانستان سے ہے۔

اس وسیع پیمانے پر پناہ گزینوں کی آمد کا سامنا کرتے ہوئے کئی یورپی ممالک نے سرحدوں پر باڑیں لگا دی ہیں اور سرحدی کنٹرول کو مزید سخت بنایا ہے۔

گذشتہ ہفتے یورپی یونین نے یونان میں ’فرونٹیکس‘ بارڈر ایجنسی کے عملے میں اضافہ کرنے کی منظوری دے دی تھی۔ یونان پناہ گزینوں کے یورپ میں داخلے کا اہم مقام ہے۔

یونان سے بہت سے پناہ گزین شمال کی جانب بلقان کی ریاستوں تک اپنا سفر جاری رکھتے ہیں، تاہم مقدونیہ نے ایسے پناہ گزینوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے جو کسی جنگ زدہ علاقے سے نہیں آئے۔

پچھلے ہفتے اقوام متحدہ کی جاری کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سال دنیا بھر میں بے دخل ہونے والے لوگوں کی تعداد چھ کروڑ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں