روس کے فضائی حملوں میں’200 شامی شہری ہلاک ہوئے‘

Image caption روس نے رواں برس 30 ستمبر سے 29 نومبر کے دوران شام میں 25 سے زائد فضائی حملے کیے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ روس کی جانب سے شام میں کی جانے والے فضائی کارروائیوں میں کم سے کم 200 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں اور عینی شاہدین کا حوالہ دیا ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ روس نے رواں برس 30 ستمبر سے 29 نومبر کے دوران شام میں 25 سے زائد فضائی حملے کیے۔

پوتن کا روسی فوج کو شام میں سخت کارروائی کا حکم

روس کا دولت اسلامیہ پر سمندر سے میزائل حملہ

’دولتِ اسلامیہ کے خلاف روسی کارروائیاں فیصلہ کن اور موثر‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق اس کی جانب سے کی گئی تحقیق کے نتائج (روس کی جانب سے) بین الاقوامی انسانی قانون کے احترام کی ’سنگین ناکامی‘ کو ظاہر کرتے ہیں۔

ماسکو نے متعدد بار شام میں کیے جانے والے فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کو مسترد کیا ہے اور ایسے دعووں کو ’ جنگی معلومات کا حصہ قرار دیا ہے۔‘

Image caption روس نے شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والے شدت پسند تنظیم اور دیگر گروپوں کے خلاف رواں برس 30 ستمبر سے فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا

واضح رہے کہ روس نے شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والے شدت پسند تنظیم اور دیگر گروپوں کے خلاف رواں برس 30 ستمبر سے فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔

روس کا موقف رہا ہے کہ وہ شام کے صدر بشار الاسد کی درخواست پر یہ کارروائی کر رہا ہے۔

ماسکو پر شامی صدر بشار الاسد کے مخالف باغی گروہوں جنھیں مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے پر بمباری کرنے کے الزام عائد کیے جاتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس نے شام کے شہروں حمص، حما، ادلب اور حلب میں روس کی جانب سے کیے جانے والے حملوں پر تحقیق کی ہے۔

انسانی حقوق کے عالمی ادارے کے مطابق اس نے روس کی جانب سے شام میں کیے جانے والے حملوں کے بعد کے 16 عینی شاہدین کے ’فون یا انٹرنیٹ کے ذریعے انٹرویو کیے‘ جس میں ڈاکٹرز اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکن شامل ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں چھ حملوں کی مزید تفصیلات بتائی ہیں۔

بین الاقوامی امدادی ادارے نے 29 نومبر کو کیے جانے والے ایک حملے کی مثال دیتے ہوئے کہ اس میں 49 شامی شہری اور متعدد افراد اس وقت زخمی ہوئے جب ادلب صوبے کی ایک مارکیٹ میں تین میزائل گرے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مزید کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کی تحقیق اور عینی شاہدین کی گواہی کے مطابق 29 نومبر کو ادلب کی مارکیٹ میں کیے جانے والے حملے میں ’کوئی فوجی ہدف نہیں تھا۔‘

امدادی ادارے کا کہنا ہے کہ اسے اس بات کا بھی ثبوت ملا ہے کہ روسی فوج نے اس حملے میں ’گنجان آبادی والے علاقوں میں ان غیر قانونی گائیڈڈ بموں کا اندھا دھند استعمال کیا۔‘

دوسری جانب روس کے حکام نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں عائد کیے جانے والے الزامات پر ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں