شراب کی قیمت مقرر کرنا قوانین کے’منافی‘

تصویر کے کاپی رائٹ ThinkStock
Image caption مئی 2012 میں سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے الکوحل کی کم سے کم قیمت مقرر کرنے کے لیے قانون سازی کی تھی

یورپی عدالت انصاف نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی حکومت کی جانب سے الکوحل کی کم سے کم قیمت متعارف کروانا یورپی یونین کے قانون کے خلاف ہے۔

اس کی بجائے عدالت کی جانب سے ایک نئے ٹیکس کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ مئی 2012 میں سکاٹ لینڈ کی پارلیمنٹ نے الکوحل کی کم سے کم قیمت 50 پینس فی یونٹ مقرر کرنے کے لیے قانون سازی کی تھی۔ تاہم سکاٹ وسکی ایسوسی ایشن نے اس قانون کی مخالفت کی اور یورپی یونین کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔

یورپی عدالت نے حکم جاری کرتے ہوئے کہا: ’انصاف کی عدالت سمجھتی ہے کہ سکاٹش قانون سازی واضح طور پر منڈی کو محدود کرنے کے لیے ہے، اور الکوحل کی کم سے کم یونٹ کی قیمت مقرر کرنے کے بجائے اس سے نئے ٹیکس لاگو کرنے سے بچا جا سکتا۔‘

عدالتِ انصاف سمجھتی ہے کہ سکاٹش قانون کا اثر یہ ہو گا کہ (الکوحل کی) منڈی بڑی حد تک محدود ہو جائے گی۔ کم از کم قیمت مقرر کرنے کی بجائے ایسا کوئی ٹیکس متعارف کروایا جا سکتا ہے جس سے الکوحل کی قیمت بڑھ جائے۔‘

عدالت نے مزید کہا: ’انجامِ کار اس بات کا فیصلہ کرنا ملکی عدالت کا کام ہے کہ سکاٹش قانون کے علاوہ ٹیکسوں میں اضافے جیسے دوسرے اقدامات انسانی زندگیوں کو بچانے اور صحت کو بحال رکھنے کے لیے موجودہ قانون جتنے کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات یورپی یونین کے ساتھ تجارت میں زیادہ خلل بھی نہیں ڈال سکیں گے۔‘

لکسمبرگ میں اس عدالتی فیصلے کے بعد کورٹ آف سیشن سے حتمی فیصلے کے لیے رجوع کیا جائے گا۔

کورٹ آف سیشن جو بھی فیصلہ کرے گی اسے کے خلاف لندن میں برطانیہ کی سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جا سکے گی۔

اسی بارے میں