’سلطنت عثمانیہ کی یاد میں چنار لگائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Wikimedia
Image caption ترکی میں بعض درخت عثمانی دور کے ہیں

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے ملک کے قدیم ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے سلطنتِ عثمانیہ کے اعزاز میں ترکی کے جنگلات میں چنار کے درخت لگانے کا حکم جاری کیا ہے۔

وزیرِ جنگلات ویزل ایروگُلو نے ترکی کے اخبار حُریت کو بتایا کہ ’چنار کے درخت عثمانیہ دور کی نشانی تھے اور ہم اپنے صدر کے احکامات پر سوگت کے علاقے میں، جہاں سلطنت عثمانیہ کی بنیاد رکھی گئی تھی، پودوں کی ایک مہم کا آغاز کر رہے ہیں۔‘

زمین پر درختوں کی تعداد 30 کھرب

انھوں نے کہا کہ صدر اردوغان آئندہ برس وہاں پہلی شجر کاری کریں گے جبکہ اسی طرح کے دیگر ایک لاکھ پودے استنبول میں لگائے جائیں گے جو عثمانی دور میں قسطنطنیہ کے نام سے سلطنت کا آخری دارالحکومت تھا۔

ایروگُلو نے 1299 میں سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے سلطان عثمان کی کہانی دہراتے ہوئے چنار کے درخت کی تاریخی اہمیت پر زور دیا۔ سلطان عثمان نے خواب میں آسمان کو چُھوتے ہوئے درخت دیکھے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Wikimedia
Image caption صدر طیب اردوغان آئندہ برس پہلی شجر کاری کریں گے جبکہ اسی طرح کے دیگر ایک لاکھ پودے استنبول میں لگائے جائیں گے

تاہم وزیرِ جنگلات نے اس فیصلے کے ماحولیاتی پہلو کا بھی حوالہ دیتے ہوئے اِن درختوں کی بدولت پارکوں، ہسپتالوں اور سکولوں میں ان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ حکومت مقامی کونسلوں کے مطالبے پر اُنھیں مفت پودے فراہم کرے گی۔

حُریت اخبار کے مطابق یہ اسلامی مملکت کے صدر اردوغان کی صرف سلطنتِ عثمانیہ کے دور کی بحالی کی کوشش نہیں ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کا خاتمہ سنہ 1923 میں قوم پرست رہنما کمال اتاترک کی سیکولر جمہوریہ کے حق میں بادشاہت نظامِ حکومت ختم کرنے کی وجہ سے ہوا تھا۔

مئی سنہ 2013 میں جب استنبول میں عوامی غازی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکوں اور ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آیا تو عوام کی جانب سے اس کے خلاف شدید احتجاج کیا گیا اور اس تنازعے کی وجہ سے اردوغان حکومت کا تختہ اُلٹنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔

اس کے بعد سے حکام کو یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ استنبول میں ہر ایک درخت کی کٹائی پر تین درخت لگائے جائیں گے۔

اسی بارے میں