سعودیہ میں سری لنکن ملازمہ کی سنگساری معاف

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خیال رہے کہ 45 سالہ یہ خاتون دو بچوں کی ماں ہیں، اور انھیں اس سال اگست میں ایک غیر شادی شدہ مرد کے ساتھ سزا سنائی گئی تھی

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک سری لنکن ملازمہ کو سنگسار کرنے کی سزا معاف کر دی گئی ہے۔

سعودیہ سنگساری کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کے لیے تیار

سعودی عرب میں اصلاح پسند مصنف کو سزا

سری لنکا کے نائب وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ہرشا ڈا سلوا نے کہا کہ ملازمہ کو سنگسار کرنے کے بجائے اب قید کیا جائے گا۔

ڈاکٹر ہرشا نے مزید کہا کہ سعودی عرب نے سری لنکا کی جانب سے ایک اپیل پر غور کرتے ہوئے ملازمہ کی سزائی موت معاف کر دی تھی۔

خیال رہے کہ 45 سالہ یہ خاتون دو بچوں کی ماں ہیں، اور انھیں اس سال اگست میں ایک غیر شادی شدہ مرد کے ساتھ سزا سنائی گئی تھی۔

خاتون کو سنگساری کرنے کی سزا ملی تھی جبکہ مرد کو 100 کوڑوں کی سزا ہوئی تھی۔

سعودی عرب اس ماہ کے ابتدا میں سری لنکن ملازمہ کا مقدمہ دوبارہ کھولنے کے لیے راضی ہو گیا تھا۔

ملک میں میڈیا کی جانب سے سری لنکن خاتون کی سزائے موت پر معافی کے سلسلے میں اب تک کوئی بیان جاری نہیں ہوا۔

یاد رہے کہ سری لنکا نے ملازمہ کو سنگسار کرنے کے سعودی عرب کے فیصلے کی مذمت کی تھی اور اس پر احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

نائب وزیر رانجن رامانائکے نے کہا کہ سری لنکن حکومت کو ملازمہ کے مقدمے کے متعلق اس وقت بتایا گیا تھا جب اسے اگست 2015 میں سزا سنا دی گئی تھی، حالانکہ اسے اپریل 2014 میں گرفتار کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ اسلامی شرعی قانون کے مطابق اس طرح کے مقدمے میں چار گواہوں کا ہونا ضروری ہے جو اس مقدمے میں ممکن نہیں تھا۔

انھوں نے مزید کہا: ’بدقسمتی سے اسے قانون کا پتہ نہیں تھا اور اس نے کسی قانونی مدد کے بغیر دباؤ میں جرم قبول کیا تھا۔‘

سزا سنائے جانے کے بعد سری لنکن عوام نے کولمبو میں اقوامِ متحدہ کے احاطے اور سعودی سفارت خانے کے سامنے احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور کئی ایک نے تو سری لنکن مزدوروں کے سعودی عرب بھیجنے پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا۔

سری لنکن حکومت نے کہا تھا کہ وہ آہستہ آہستہ مشرقِ وسطیٰ بھیجی جانے والی خواتین کی تعداد میں کمی لا رہی ہے۔

اسی بارے میں