تصاویر جنھوں نے دنیا جھنجھوڑ دی

تصویر کے کاپی رائٹ bbc
Image caption ہودیہ کا خاندان شام کے ایک کیمپ میں زندگی بسر کر رہا ہے

شام میں 20 لاکھ سے زیادہ بچے جنگ کے نتیجے میں پناہ گزین بن گئے ہیں، لیکن انٹرنیٹ پر چند ایسے بچوں کی دل شکن کہانیوں نے پوری دنیا میں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔

بی بی سی ٹرینڈنگ پانچ ایسی کہانیاں پیش کر رہا ہے جو 2015 میں آپ کی توجہ کا مرکز بنیں۔

1۔ کیمرے کو بندوق سمجھنے والی بچی

رواں سال کے آغاز میں ایک چھوٹی سی بچی کی تصویرانٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی۔ تصویر میں یہ بچی خوف میں مبتلا ’ہینڈز اپ‘ کی حالت میں اپنے ہاتھ ہوا میں بلند کیے کھڑی ہے۔ اس تصویر کو ٹوئٹر پر ہزاروں مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا، لیکن اب تک اس بچی کے بارے میں مزید معلومات کسی کے پاس نہیں تھیں۔

بی بی سی ٹرینڈنگ نے معلوم کیا ہے کہ اس بچی کا نام ہودیہ ہے اور یہ تصویر 2014 میں لی گئی تھی۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصویر کھینچنے والے فوٹوگرافر عثمان سغریلی نے بتایا کہ وہ ایک لمبے ٹیلی فوٹو لینز سے تصویر کھینچنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ننھی ہدا اسے بندوق سمجھ بیٹھی۔

بی بی سی نے ہودیہ کے والد سے بھی رابطہ کیا اور جاننے کی کوشش کی کہ اس تصویر کے بعد ہودیہ اور ان کے خاندان کا کیا بنا۔ انھوں نے ہمیں بتایا کہ صورت حال بالکل ویسی کی ویسی ہے بلکہ اور بری ہو گئی ہے۔ ہودیہ کا خاندان شام کے ایک کیمپ میں زندگی بسر کر رہا ہے اور ان کے والد نے بتایا کہ یہاں پانی کی شدید قلّت ہے۔

2۔ قلم بیچنے والے کی بیٹی

اپنے کندھے پر سوتی ہوئی بیٹی کو لادے، بیروت کی سڑکوں پر قلم اور بال پوائنٹ بچنے والے ایک شخص کی تصویر نے انٹرنیٹ کے ذریعے لاکوں لوگوں کو متاٰثر کیا۔

ہزاروں میل دور آئس لینڈ کے ایک صحافی سیمونارسن اس تصویر کو دیکھ کر اتنا متاثر ہوئے کہ انھوں نے اس بچی اور اس کے والد کو تلاش کرنے کی ٹھان لی۔ تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ یہ تصویر 33 سالہ فلسطینی پناہ گزین عبدالحلیم اتر اور اس کی بیٹی ریم کی تھی جن کو شام کے یرموک کیمپ سے فرار ہونا پڑا۔

سیمونارسن نے ان کی مدد کرنے کے لیے ٹوئٹر کے ذریعے عوام سے پانچ ہزار ڈالر جمع کرنے کی اپیل کی۔ لوگ ان کی کہانی سن کر اتنا متاثر ہوئے کہ وہ تقریباً دو لاکھ ڈالر جمع کرنے میں کامیاب ہو گئے، جو سیمونارسن نے اتر کو منتقل کر دیے ۔ اتر نے اس رقم سے کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا اور آج وہ ایک بیکری، ایک کباب شام اور ایک ریستوران کے مالک ہیں۔

3۔ وردی والے سے خوفزدہ بچی

ترکی میں ایک پولیس والے کو دیکھ کر زور زور سے چیخیں مارنے والی ایک چھوٹی بچی کی ایک ویڈیو کو اس سال 20 لاکھ مرتبہ انٹرنیٹ پر دیکھا گیا ہے۔

ویڈیو میں پولیس والا اس بچی کو تسلی دینے کی کوشش کر تا نظر آتا ہے لیکن وہ سمجھتی ہے کہ اسے سڑک پر ٹشو بیچنے کی وجہ سے سزا ملے گی۔

ویڈیو پر تبصرہ کرنے والے بہت لوگوں کا کہنا تھا کہ جنگ کو اتنا قریب سے دیکھ کر شامی بچے مستقل صدمے کی حالت میں ہیں اور اس لیے وردی میں ملبوس کسی بھی شخص کو دیکھ کر ڈر جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

4۔ ٹشو بیچنے والے بچے پر تشدد کی تصویر

ترکی کے شہر ازمیر میں ایک ریستوران کے باہر ٹشو بیچنے پر مالک نے 13 سالہ احمد پر تشدد کیا۔ موبائل فون پر ریکارڈ کیے جانے والے یہ مناظر فوراً ہی ترکی کے سوشل میڈیا میں پھیل گئے۔

لوگوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور سوشل میڈیا پر سخت غم و غصے کا اظہار کیا۔

میڈیا میں شور مچنے کے بعد ترک حکومت نے بچے اور اس کے خاندان کو تلاش کر لیا لیکن وہ ریستوران کے مینیجر پر کیس نہیں کرنا چاہتے تھے۔ میڈیا کے مطابق احمد کی ماں دل کی مریض تھیں اور انھیں طبی سہولت فراہم کی گئی اور اس کے والد کو نوکری دلانے کا وعدہ کیا گیا۔

پورے خاندان کو کچھ عرصہ چھٹی منانے کے لیے ایک ہوٹل میں بھی رکھا گیا، تاہم احمد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے خاندان کی مدد کرنے کے لیے اب بھی سڑک پر ٹشو بیچیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

5۔ مردہ بچے کی ایک تصویر جس نے سب کچھ بدل دیا

اگر کسی بھی ایک تصویر نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی ہے تو وہ تین سالہ ایلان کردی کی لاش کی تھی جس کو ڈوبنے کے بعد سمندر کی لہروں نے ترکی کے ساحل پر پہنچا دیا۔

یہ تصویر شام سے نقل مکانی کرنے والے پناہ گزینوں کی مشکلات کی علامت بن گئی اور اس کے بعد پوری دنیا میں ان کی مدد کرنے کے لیے کوششیں شروع ہوگئیں۔ ایلان، اس کا بھائی غالب اور ان کی ماں ریحانہ دو ستمبر کو ترکی سے یونان کا سفر طے کرتے ہوئے کشتی کے حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس وقعے میں 12 اور شامی پناہ گزین بھی ہلاک ہوئے تھے۔

ایلان کے والد عبداللہ اب یورپ جانے کے خواب کو بھول گئے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ واپس شام جائیں گے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ان کی بیٹے کی موت کے بعد پوری دنیا میں شامی پناہ گزینوں کا تصور تبدیل ہو گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سانحہ ان کے لیے ناقابل برداشت تھا لیکن ان کو فخر بھی ہے کہ اس تصویر نے ہزاروں دوسرے پناہ گزینوں کی تقدیر بدل دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

اسی بارے میں