بم سونگھنے والے سینسر کی تیاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

کیمیائی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ پیرس حملوں کے بمباروں نے جس دھماکہ خیز مادے کا استعمال کیا تھا اسے آسانی سے گھر پر ہی تیار کیا جا سکتا ہے۔

کیمیا دان ان کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ اس مادے کو سونگھ کر اس کی موجودگی کا پتہ چلا لیا جائے۔

ٹی اے ٹی پی نامی یہ آۤتش گیر مادہ فارمیسی میں دستیاب کیمیکلز اور ہارڈویئر کی دکانوں پر موجود دھاتی اشیا کو ملا کر تیار کیا جا سکتا ہے۔

دنیا کےکئی تحقیقی گروپ ایسے حساس آلات کی تیاری میں مصروف ہیں جو اس مادے کے پھٹنے سے قبل ہی اس کا سراغ لگا لیں۔

یونیورسٹی آف الینوئے میں کیمیا کے پروفیسر ڈاکٹر کینیتھ سسلک کا کہنا ہے کہ ’ٹی اے ٹی پی کو تیار کرنا اتنا ہی آسان ہے جیسے اپنے گھر پر کدو کی پائی تیار کرنا۔‘

ماہرین کےمطابق یہی وجہ ہے کہ دہشت گروں میں یہ مادہ بہت مقبول ہے۔ دنیا کے بہت سے دہشت گرد اس مادے کا استعمال کر چکے ہیں، جن میں مغربی کنارے کے فلسطینیوں سے لے کر ’شو بامر‘ کے نام سے مشہور دہشت گرد رچرڈ ریڈ تک شامل ہیں۔

امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی کے تعاون سے ڈاکٹرگریگوری اور ان کی ٹیم نے ای سی ایس ٹرانزیکشن نامی جرنل میں شائع ہونے والی رپورٹ میں وضاحت کی ہے کہ انھوں نے ٹی اے ٹی پی کی تشخیص کے لیے بالکل مختلف حکمت عملی اختیار کی ہے۔

ان کے سینسر میں ٹن اوکسائڈ نامی مادہ موجود ہے۔ جب ٹی اے ٹی پی اس مواد کے ساتھ عمل پذیر ہوتا ہے تو اس سے حرارت پیدا ہوتی ہے اور آلہ ٹی اے ٹی پی کی موجودگی کی تشخیص کر لیتا ہے۔

ٹی اے ٹی پی کی تشخیص کے لیے کتوں کی تربیت بھی کی جا سکتی ہے لیکن کتے آلے جتنا قابل اعتبار نہیں ہوتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ڈاکٹر سسلک کا کہنا ہے کہ ’کتوں کے ساتھ دو طرح کے مسائل ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ صرف اپنے مالک کو خوش کرنے کے لیے کبھی کبھار اس کی مرضی کا جواب دے دیتےہیں، جو غلط ہو سکتا ہے، اور دوسرے یہ کہ آس پاس کوئی بلی یا پھر دوسرا کتا دیکھ کر ان کی توجہ بٹ بھی سکتی ہے۔‘

حساس آلات کی تیاری

سائنس دان کہتے ہیں اگر کسی خود کش بمبار نے ٹی اے ٹی پی سے بھری جیکٹ پہن رکھی ہے تو یہ ضروری ہے کہ اس میں سے کچھ نہ کچھ گیس خارج ہو رہی ہو گی۔

امریکی محکمہ دفاع کے تعاون سے ڈاکٹر سسلک اور ان کی ٹیم نے ہاتھ کے استعمال کا ایک ایسا آلہ تیار کر لیا ہے جس میں رنگ کو جانچنے والا حساس مادہ ٹی اے ٹی پی اور دیگر آتش گیر مادوں کے ساتھ ردعمل کے نتیجے میں ان کی تشخیص کر لیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

جب ٹی اے ٹی پی سے نکلنے والے گیس کے بخارات اس آلے میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں ان کا ٹھوس تیزابی اجزا کے ساتھ تعامل ہوتا ہے، جس کے نتیجےمیں وہ اپنا رنگ تبدیل کرلیتے ہیں۔

رنگ کی اس تبدیلی کو دیکھتے ہوئے یہ انتہائی حساس آلہ کروڑوں اقسام کی ٹی اے ٹی پی میں سے کچھ ہی کی تشخیص کر پاتا ہے۔

اس کے علاوہ کیمیکل سائنس جرنل میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق ڈاکٹر سسلک اور ان کی ٹیم نے ایک مزید جدید آلے کی تیاری کے بارے وضاحت کی ہے جس میں کئی کیمیکلز کو رنگ بدلنے کے اشارے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

اس نئے آلے سے تقریبا ایک درجن کے قریب مختلف آتش گیرمادوں کی تشخیص ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں