سانتا اس بار کنفیوژڈ کیوں ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سانٹا تھوڑا کنفیوژڈ ہے کہ کرسمس پر اس کی باتیں کم ہو رہی ہیں

کرسمس کا موسم ہے، لیکن سانتا کچھ كنفیوژڈ سا گھوم رہا ہے۔ وہ سمجھ نہیں پا رہا کہ ہر سال کی طرح ہو ہو کر کے ہنسے یا پھر کسی کرسمس ٹری کے پیچھے دبك كر بیٹھ جائے۔

برسوں سے تو وہ ایک ہی کام کرتا آیا ہے۔ سال بھر سے معصوم سی خواہشوں کی فہرست بنانے والے ٹوٹے ہوئے دودھ کے دانت والے بچوں کو ہنسانا، ان کے ساتھ خود بھی ہنسنا، انجان لوگوں کو گلے لگانا، ہو ہو کر کے خوشیاں تقسیم کرنا، ہر برس اس کا یہی تو کام ہے۔

اس بار کرسمس کے ساتھ ساتھ انتخابی موسم بھی ہے۔ انتخابی ریلیوں میں بھی کرسمس کی سجاوٹ نظر آتی ہے۔ سرخ سفید ٹوپیاں نظر آتی ہیں۔ سانتا کی بگّھي آئے گی اس کے لیے جنگّل بیل ۔۔۔ جنگّل بیل نغمے بھی بج رہے ہیں۔ لیکن خوشی کے اس ماحول میں بھی زہر افشانی اور نفرت اگلي جا رہی ہے۔

کسی کو امریکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی بات ہو رہی ہے تو کسی کو امریکہ سے نکالنے کی بات ہو رہی ہے۔ کہیں مساجد کی دیوار پر سیاہی پوتی جا رہی ہے، تو کہیں گرودواروں کی کھڑکیوں پر پتھر پھینکے جا رہے ہیں۔ اور ساتھ ہی امریکہ کو دنیا کا عظیم ترین ملک بنانے کی بھی بات ہو رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ میں نسل کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں

اور اسی وجہ سے سانتا كنفيوژڈ ہے۔ جس عیسیٰ مسیح کا نام وہ برسوں سے لیتا آیا ہے، وہ بھی تو باہر ہی پیدا ہوئے تھے، تو پھر باہر سے امریکہ آنے والے تمام لوگ خراب کیسے ہوگئے؟

اب جب وہ اپنی گٹھری لے کر نکلے گا، چھوٹے چھوٹے بچے اس سے لپٹنے کو دوڑیں گے تو کیا وہ ان سے پوچھے کہ کہاں سے آئے ہو، کس مذہب کے ہو؟ کیا وہ ان کا رنگ دیکھے، ان کی نسل پتہ کرے؟

ویسے بھی سب کچھ الٹا سا نظر آ رہا ہے۔ یہ سرد ہواؤں کا اور گرم رشتوں کے ملاپ کا موسم ہوتا تھا۔۔۔ اس بار موسم گرم ہے، لگتا ہی نہیں جیسے دسمبر ہو۔ خود لوگ سرد سے ہیں، سہمے سے ہیں۔

ان دنوں اخبارات میں ہر دوسرے دن کہانی یہ ہوتی تھی کہ دکان میں خریداری کے بعد پیسہ ادا کرتے وقت لائن میں کھڑا گاہک اپنے پیچھے کھڑے ہونے والے خاندان کا بھی بل ادا کر گيا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rick Rycroft
Image caption اس بار سردی کم ہے اور کرسمس جیسا موسم نظر نہیں آ رہا ہے

ان دنوں خبر چھپ رہی ہے کہ مال کی لائن میں کھڑے ایک شخص نے دوسرے کو دہشت گرد کہا، اسامہ بن لادن کہا۔

بے چارہ سانتا تھوڑا اگنورڈ بھی محسوس کر رہا ہے۔ کہاں تو اس موسم میں صرف اسی کی باتیں ہوتی تھیں، جب رات کے اندھیرے میں وہ چمنی کے راستے سے ڈرائنگ روم میں گھسےگا تو کیسے نظارے دیکھے گا، اس پر لطيفے سنائے جا رہے ہوتے تھے۔

آج اس کی بات کم اور دولت اسلامیہ کی زیادہ ہو رہی ہے۔ ٹی وی چینل اور اخبارات پر اسلام اور مسلمانوں کی بات ہو رہی ہے۔ سانٹا اندر کے صفحات پر یا پھر سیلز کے پرچوں پر نظر آتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرسمس کا تہوار دنیا بھر میں بڑے دھوم دھام سے منایا گیا

لیکن سانتا چچا آپ فکر نہ کریں۔

فرنٹ پیج پر نہ سہی لیکن اندر کے صفحات پر کچھ اور کہانیاں بھی ہیں۔

ایک آٹھ برس کی مسلمان بچی کی کہانی ہے جو ڈونلڈ ٹرمپ کی باتیں سن کر گھبرا گئی اور اس کی ماں میلیزا نے فیس بک پر اس خوفزدہ بچی کی کہانی لکھ کر پوسٹ کردی۔

اس پر فوجی وردی میں ملبوس ایک خاتون کا جواب آیا۔۔۔السلام علیکم میلیزا! اپنی بچی کو میری تصویر دکھا دیں اور کہیں کہ میں اسے برے لوگوں سے بچاوں گي۔ اور پھر کئی فوجیوں نے Iwillprotectyou# کے ہیش ٹیگ سے لوگوں کو ڈھارس دلانا شروع کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جنگل بیل جنگل بیل کو چاروں طرف گونجنے دیں

چچا امریکہ تو یہ ہے۔ آپ چند سیاست دانوں کی باتوں سے كنفيوژڈ اور مایوس ہو جائیں گے تو کس طرح چلے گا۔ آپ تو صرف ایک بار بلند آواز میں ہو ہو کر کے ہنسیں۔ زور کی جھپّی دیں اور جنگل بیل جنگل بیل کو چاروں طرف گونجنے دیں۔

کرسمس اور نیا سال آپ سب کو مبارک ہو!

اسی بارے میں