عراقی افواج رمادی میں دولتِ اسلامیہ کے گڑھ میں داخل

رمادی
Image caption حکومت کئی ہفتوں سے شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے

بی بی سی کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق عراق کی فورسز رمادی میں سابق حکومت کے اس کمپاؤنڈ میں داخل ہوگئی ہیں جہاں پر دولتِ اسلامیہ کے جنگجو شدید مزاحمت کر رہے تھے۔

ذرائع نے بتایا کہ فوج ایک عمارت میں داخل ہو چکی ہے اور اس خدشے کے ساتھ بہت احتیاط سے آہستہ آہستہ اس بڑے کمپاؤنڈ میں آگے بڑھ رہی ہے کہ کہیں جنگجوؤں نے یہاں بم نہ لگائے ہوں۔

عراقی افواج ’دولتِ اسلامیہ کے گڑھ میں داخل‘

رمادی کے شہریوں کو شہر چھوڑنے کی ہدایت

رمادی کے اہم ڈسٹرکٹ پر عراقی فوج کا دوبارہ ’کنٹرول‘

کہا جا رہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے جنگجو شہر کے شمال مشرق کی طرف فرار ہو گئے ہیں۔

حکومت کئی ہفتوں سے شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق سنیچر کو عراقی فوج کے ترجمان کے جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا تھا کہ تمام تر مزاحمت کے باوجود سرکاری افواج کی پیش قدمی جاری ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2014 میں دولتِ اسلامیہ نے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔

سرکاری فورسزز کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ رسول نے سنیچر کو کہا تھا کہ شہر کے علاقے ہوز میں، جہاں صوبائی حکومت کے دفاتر واقع ہیں، عراقی فوج نے پیش قدمی کی ہے۔

Image caption عرقی فوج کو امریکہ نے اس آپریشن کے لیے مہینوں تربیت دی ہے

’انسدادِ دہشت گردی کی فورس کے جوانوں نے گزشتہ روز ایک کلومیٹر کی پیش قدمی کی ہے اور اب وہ سرکاری عمارتوں سے آٹھ سو میٹر کی دوری پر ہیں۔‘

بریگیڈیئر یحیی رسول کا مزید کہنا تھا کہ ’ فضائی بمباری زمینی افواج کی، پیش قدمی کرنے میں مدد گار ثابت ہوئی ہے۔‘

خصوصی آپریشنز کے کمانڈر سمیع الآردی کا کہنا ہے کہ ’ رمادی کو تین اطراف سے آزاد کروانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ہماری فوج اب اپنے اہداف کی طرف پیش قدمی کر رہی ہے اس میں تاخیر مجرموں کی جانب سے گھروں اور دیگر عمارتوں میں نصب کیے گئے بموں کی وجہ سے ہو رہی ہے۔‘

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ دولت اسلامیہ کے جنگجو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے لیے لوگوں کو گھیر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ رمادی صوبائی دارالحکومت ہے اور بغداد سے صرف دو گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

سرکاری افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ رسول کے مطابق دولتِ اسلامیہ کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں رہنے والے عام شہریوں نے مرکزی ہسپتال میں پناہ لے رکھی ہے کیونکہ انھیں معلوم ہے کہ سرکاری فوج ہسپتال کو نشانہ نہیں بنائے گی۔

گذشتہ ماہ حکومتی فورسز نے رمادی شہر کو مکمل طور پر گھیر لیا تھا جس کی وجہ سے وہاں موجود دولتِ اسلامیہ کے جنگجو اپنے دوسرے مضبوط گڑھ انبار صوبے اور شام سے کٹ گئے تھے۔

اسی بارے میں