امریکہ میں طوفانوں سے تباہی، ہلاکتیں 43 ہوگئیں

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption میسوری، اوکلاہوما اور نیو میکسیکو کی ریاستوں میں گورنروں نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے

امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کی جنوبی اور مغربی ریاستوں میں آنے والے شدید طوفانوں سے پانچ دن میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 43 تک پہنچ گئی ہے۔

ان علاقوں کو اچانک آنے والے سیلابوں، بگولوں اور برفانی طوفانوں کا سامنا ہے جن سے سینکڑوں مکانات تباہ اور نقل و حمل کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔

جنوبی امریکہ میں سیلاب، ڈیڑھ لاکھ افراد کی نقل مکانی

امریکہ میں شدید طوفان سے 18 افراد ہلاک، متعدد زخمی

امریکی محکمۂ موسمیات نے ٹیکسس، آرکنسا، لوئزیانا، اوکلاہوما اور مسیسیپی میں مزید بگولے آنے کی تنبیہ جاری کی ہے۔

میسوری، اوکلاہوما اور نیو میکسیکو کی ریاستوں میں گورنروں نے ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔

تازہ ترین ہلاکتیں ریاست الینوائے میں ہوئیں جہاں ایک گاڑی سیلابی ریلے میں بہنے سے دو بچوں سمیت پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

اس کے علاوہ ریاست ٹیکسس میں بگولوں کی زد میں آ کر 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس کے مطابق ڈیلس کے علاقے میں 600 کے قریب عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے

کم سے کم آٹھ افراد ڈیلس کے قریب گارلینڈ میں ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے پانچ افراد موٹروے پر طوفان کے باعث گاڑی الٹ جانے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ دیگر قصبوں سے ملنے والی لاشوں کی تعداد تین ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مغربی ٹیکسس اور نیو میکسیکو میں شدید برف باری کا امکان ہے۔ ان کے مطابق وہاں تقریباً 16 انچ برف پڑ سکتی ہے۔

جنوبی علاقوں میں موسم سرما کے دوران اتنا شدید طوفان غیر معمولی بات ہے۔

ٹیکسس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جنوبی ڈیلس سے شمال مغربی علاقوں تک چرچ تباہ ہو چکے ہیں، گاڑیاں الٹ گئی ہے اور درخت اکھڑ گئے ہیں۔

گارلینڈ میں پولیس اہلکار میلیندا اربینا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سنیچر کو طوفان کے باعث تیز ہواؤں کے نتیجے میں گاڑیوں کو حادثے پیش آئے۔

مس اربینا کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں نے ’گاڑیوں کو گھما کر‘ پھینکا جنھیں بعد میں شمال مغربی ڈیلس میں دیکھا گیا تھا۔انھوں نے مقامی افراد سے درخواست کی ہے کہ وہ سڑک سے دور رہیں۔

اتوار کو گارلینڈ پولیس کے لیفٹیننٹ پیدرو بیرینیو نے بریفینگ کے دوران بتایا کہ تقریباً 600 عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption طوفان کے باعث گاڑیاں الٹ گئی ہیں اور درخت اکھڑ گئے ہیں

امدادی ادارہ ریڈ کراس ان افراد کے لیے رہنے کی جگہ کے انتظامات کر رہا ہے جن کے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

پولیس کے مطابق گلیوں اور ہائی وے پر نصب لائٹیں ٹوٹ چکی ہیں جس کی وجہ سے اہلکاروں کو رات کے اندھیرے میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق کم سے کم 30 ہزار افراد کو بجلی کی سہولیات میسر نہیں ہیں اور کئی مقامات پر گیس کے پائپ پھٹنے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

گذشتہ ہفتے کے دوران خراب موسم کے باعث جہاں ڈیلاس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں وہیں بعض امریکی وسط مغربی ریاستوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

شدید ترین طوفان کے باعث مسی سپی میں دس، ٹینیسی میں چھ ، آرکنساس اور الاباما میں ایک، ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔

مسی سپی میں 20 کے قریب ٹورنیڈوز کی وجہ سے حکام کا کہنا ہے کہ 56 افراد زخمی اور 400 سے زائد مکانات تباہ ہوئے یا جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

اسی بارے میں