’ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی، جوہری معاہدے میں اہم قدم‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم کرے گا

امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کی شرائط کو پورا کرتے ہوئے بڑی مقدار میں افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بیرونِ ملک منتقل کر کے ’اہم قدم‘ اُٹھایا ہے۔

سوموار کو امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے یہ بیان ایران کی جانب سے 11 ٹن افزدہ یورینیم کی کھیپ روس کو روانہ کرنے کے بعد دیا ہے۔

ایران سے معاہدے پر عالمی رہنماؤں کا خیر مقدم، اسرائیل کی مذمت

’جوہری پروگرام پر معاہدہ ایران کے دنیا سے تعلقات کا نیا باب‘

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ رواں سال جولائی میں ہوا تھا۔ جس کا مقصد ایران کی جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت کو ختم کرنا ہے۔

ایران اور عالمی طاقتوں کے مابین طے پانے والے اس معاہدے کے تحت ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم کرے گا اور یورینیم کی افزدگی کے لیے استعمال ہونے والے سینٹریفیوجز کی تعداد بھی کم کی جائے گی۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ ایران کی جانب سے افزودہ یورینیم روس کو منتقل کرنے کے بعد اب ایران کو جوہری ہتھیار کی تیاری کے لیے ایندھن حاصل کرنے میں پہلے سے تین گنا زیادہ وقت درکار ہو گا۔

جان کیری نے کہا کہ ’میں یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ ایران کی جوہری معاہدے کے تحت اہم شرائط پر عمل درآمد سے جوہری معاہدے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔‘

رواں سال جولائی میں طے ہونے والے جوہری معاہدے کے تحت فریقین اس بات پر متفق تھے کہ جوہری توانائی کے نگران ادارے آئی اے ای اے اس بات جائزہ لے گا کہ ایران معاہدے پر عمل درآمد کر رہا ہے یا نہیں۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے اپنے رکن ممالک سے درخواست کی تھت کہ اسے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی نگرانی کے لیے مزید رقم فراہم کی جائے اور ادارے کو اس مقصد کے لیے سالانہ ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر درکار ہوں گے۔

معاہدے میں ایران عالمی ادارے کے ماہرین کو کسی بھی ایسے مقام تک رسائی فراہم کرے گا جس کے بارے میں ادارے کو شکوک ہوں۔

جوہری معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کے بعد امریکہ سمیت مغربی ممالک ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں اُٹھا لیں گے۔

اسی بارے میں