صدر پوتن کا حلقۂ یاراں

Image caption مسٹر پوتن دمتری مدویو کے ساتھ ورزش کرتے ہوئے

ولادی میر پوتن جب پہلی مرتبہ اقتدار میں آئے تھے تو تب کسی نے ان سے پوچھا تھا کہ اپنے رفقاء میں وہ سب سے زیادہ بھروسہ کس پر کرتے ہیں تو انھوں نے پانچ نام گنوائے تھے۔

  • نکولائی پتروشیو
  • سرگئی ایوانوو
  • دمتری مدویو
  • ایلکسی کُدرین
  • آئگر سیچن

پندرہ برس گزر جانے کے بعد آج بھی ولادی میر پوتن کا قریبی حلقہ انھیں پانچ افراد پر مشتمل ہے اور یہی وہ شخصیات ہیں جو روسی حکومت اور کاروباری دنیا کی تمام تر حکمت عملی کی ذمہ دار ہیں۔

  • مسٹر پتروشیو سنہ 1999 سے روس کی اندرونی سلامتی کے محکمے (ایف ایس بی) کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرتے رہے اور پھر سنہ 2008 میں مسٹر پوتن نے انھیں روسی سکیورٹی کونسل کا سیکریٹری تعینات کر دیا۔
  • مسٹر ایوانوو سنہ 2011 سے روس کے وزیرِ دفاع اور نائب وزیرِ اعظم چلے آ رہے ہیں اور اس کے علاوہ وہ صدارتی انتظامیہ کے سربراہ بھی ہیں۔
  • مسٹر مدویو سنہ 2008 سے سنہ 2012 تک ملک کے صدر رہے جس دوران وہ اس دو پہیوں والی حکمرانی گاڑی میں بیٹھے ہوئے تھے جس کی دوسری نسشت پر صدر پوتن تشریف فرما رہے۔ آج کل وہ ملک کے وزیرِ اعظم ہیں۔
  • مسٹر کُدرن سنہ 2011 تک وزیرِ خزانہ رہے۔ اگرچہ آج کل ان کے پاس کوئی باقاعدہ عہدہ نہیں ہے، لیکن لگتا ہے کہ اہم معاشی معاملات پر صدر پوتن سب سے زیادہ ان کی سنتے ہیں۔
  • مسٹر سیچن ماضی میں صدر کی انتظامیہ اور حکومت میں سینیئر عہدوں پر رہے ہیں اور آج کل وہ تیل کی سرکاری کپمنی ’روزنیفٹ‘ کے سربراہ ہیں۔

صدر پوتن کے قریبی حلقے میں شامل ان شخصیات پر ایک نظر ڈالیں تو ہمیں دو نکات ایسے ملتے ہیں جو نشاندہی کرتے ہیں کہ روس کو کون چلاتا ہے۔

Image caption صدر پوتن کے رفقائے خاص (بائیں سے دائیں) نکولائی پتروشیو، نکولائی پتروشیو، سرگئی ایوانوو، ایلکسی کدرن اور آئگر سیچن

پہلا نکتہ یہ ہے کہ جہاں تک مسٹر پوتن کے اقتدار کا تعلق ہے تو ان کے قریبی ساتھیوں کے انتخاب میں ایک تسلسل نظر آتا ہے۔ اسی لیے ان کے قریبی حلقے میں جوہری رد و بدل بہت کم ہی ہوا ہے اور ایسے افراد بہت کم ہیں جنھیں اس حلقۂ یاراں سے باہر نکال دیاگیا ہو۔

دوسرا نکتہ یہ کہ صدر پوتن کے حلقۂ یاراں کا قلب انھیں افراد پر مشتمل رہا ہے جو سنہ 1990 کی دہائی میں سینٹ پیٹرزبرگ یا ’کے جی بی‘ میں مسٹر پوتن کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔

اس قریبی حلقے میں ان پانچ افراد کے علاوہ ایسے کچھ اور لوگ بھی شامل ہیں جن پر صدر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ سرمائی اولمپکس کے سٹیڈیم کی تعمیر جیسے بڑے بڑے منصوبوں کی نگرانی کے اہل ہیں۔ ان کے علاوہ اس حلقے میں کئی وہ افراد بھی شامل ہیں جو علاقائی سطح پر اہم عہدوں پر فائز ہیں یا بڑے سرکاری افسران ہیں۔

ان اہم شخصیات میں سے کئی ایک ایسے ہیں جو صدر پوتن کے سیاسی عروج سے پہلے بھی اہم عہدوں پر فائز رہ چکے تھے۔

موجودہ وزیرِ دفاع اور نازک حالات (ایمرجنسی) کے سابق وزیرِ سرگئی شوئگو سنہ 1990 کی دہائی کے آخری برسوں میں روس کے سیاسی افق پر نمودار ہو چکے تھے اور پھر سنہ 2001 سے سنہ 2005 تک وہ یونائیٹڈ رشیا پارٹی کے سربراہ بھی رہ چکے تھے۔

یہ شخصیات وہ ہیں جو آئے روز اہم فیصلوں پر بحث مباحثے کے لیے ملک کے اہم ترین ادارے یعنی سکیورٹی کونسل کے اجلاسوں میں ایک دوسرے ملتی ہیں۔

صدر پوتن کے قریبی حلقے میں شامل افراد کی مہارت اپنی جگہ لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ روس کی انتظامی مشینری میں ضرورت سے زیادہ افسر شاہی دیکھنے میں آتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اکثر پالیسیاں اوپر سے تھونپ دی جاتی ہیں اور ان پر عمل درآمد یا تو ہوتا ہی نہیں اور اگر ہوتا ہے تو خاصے بھونڈے انداز میں۔ سرکاری اداروں کے افسران کے درمیان توازن کی کمی کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بسا اوقات بڑے بڑے منصوبوں پر عمل در آمد کے لیے ان افسران کی بجائے دوسری شخصیات زیادہ اہم ہو جاتی ہیں۔

Image caption یوری ترنتیو صدر پوتن کی حکومت میں کئی اہم عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں

اس قسم کی بڑی شخصیات میں سے ایک یوری ترنتیو ہیں جو سنہ 2000 میں علاقائی گورنر منتخب ہوئے اور سنہ 2004 میں انھیں قدرتی وسائل اور ماحولیات کا وزیر تعینات کر دیا گیا۔

سنہ 2013 میں یوری ترنتیو کو ترقی دے کر نائب وزیرِ اعظم اور ملک کے مشرق بعید کے علاقے کے لیے صدر کا مشیر خاص مقرر کر دیا گیا۔ یہ عہدہ صدر پوتن کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

یوری ترنتیو کے علاوہ روسی معاملات کے کئی تجزیہ کار یاچسلوف وولودین کے کردار کو بھی نہایت اہم سمجھتے ہیں کیونکہ یہ وہ شخصیت ہیں جو سنہ 2011 سے صدر پوتن کی اہم ترین سیاسی معاون چلی آ رہی ہے۔

سرکاری عہدوں پر تعیناتی سے پہلے مسٹر وولودین علاقائی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور نیشنل پارٹی کے اندر اہم ذمہ داریاں بھی نبھاتے رہے ہیں اور ترقی کرتے کرتے وہ قومی سطح کے اہم عہدوں تک پہنچے ہیں۔

مسٹر وولوین ہی وہ رہنما ہیں جنھوں نے سنہ 2011 میں ’آل رشین پاپولر فرنٹ‘ نامی سیاسی گروپ کی بنیاد رکھی جو ملکی رہنماؤں کو پالیسی سازی اور بڑے بڑے منصوبوں پر عمل درآمد میں نہایت اہم مشاورت فراہم کرتا ہے۔

صدر پوتن کے قریبی حلقے میں تسلسل کے علاوہ صدر کو اپنی نئی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کئی ایسے موثر افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو کسی رکاوٹ کے بغیر یہ کام کر سکیں۔

اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ صدر پوتن کے رفقا کا حلقہ سکڑنے کی بجائے مزید پھیلتا جا رہا ہے۔

ان ابھرتے ستاروں میں کئی ایسے ہیں جو پارٹی کے اندر اور انتظامیہ میں اب اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان میں سے ایک 39 سالہ الیگزینڈر گلشکا ہیں جو کہ پاپولر فرنٹ کے رکن ہیں اور صدر اور وزیر اعظم کی کئی مشاورتی ٹیموں میں شامل ہیں۔ سنہ 2013 میں انھیں وزیر برائے مشرق بعید تعینات کیا گیا تھا۔

Image caption مرکزی کردار صدر پوتن کا ہی ہے، لیکن صاف ظاہر ہے کہ وہ کسی ٹیم کے بغیر کام نہیں کر رہے

یہ بات ہمیں اپنے آخری نکتے پر لے آتی ہے، اور وہ نکتہ یہ ہے کہ صدر پوتن کے علاوہ وہ شخصیت کون ہے جو آج کل روس کو چلا رہی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ روس میں مرکزی کردار صدر پوتن کا ہی ہے، لیکن صاف ظاہر ہے کہ وہ کسی ٹیم کے بغیر کام نہیں کر رہے۔

اوپر ہم نے جن افراد کا ذکر کیا ہے، ان تمام کی شہرت یہی ہے کہ وہ بہت محنتی ہیں، مخلص ہیں اور ثابت کر چکے ہیں کہ وہ بڑے بڑے کاروباری منصوبوں اور اہم پالیسیوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی مہارت رکھتے ہیں۔

صدر پوتن کے ایک قریبی شخص نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ صدر نے اپنے حلقۂ یاراں کا انتخاب ان کی خوبصورت آنکھیں دیکھ کر نہیں کیا تھا، بلکہ یہ دیکھ کر کیا تھا کہ یہ لوگ کام کرنا جانتے ہیں۔

مضمون نگار، اینڈریو مُناگھن برطانوی تھنک ٹینک چیٹہم ہاؤس سے منسلک ہیں اور روسی امور کے ماہر ہیں۔

اسی بارے میں