گھر والوں کی آن لائن جاسوسی پر اب پانچ برس قید

Image caption کراؤن پروسیکیوشن سروس کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت کسی کو دی جانے والی دھمکیوں کے طریقے اور نوعیت، کسی کی تذلیل یا توہین اور کسی کو ڈرانے دھمکانے جیسے معاملات قابلِ گرفت بن جائیں گے

برطانیہ میں نافذ کیے گئے ایک نئے قانون کے مطابق گھریلو تشدد کے ان ملزمان کو پانچ برس تک کی قید ہو سکتی ہے جو اپنے گھر والوں اور خاندان کی انٹرنیٹ پر جاسوسی کرتے ہیں یا ان پر آن لائن نظر رکھتے ہیں۔

نئے قانون کا ہدف خصوصاً وہ لوگ ہوں گے جو اپنے شریکِ حیات، پارٹنر یا خاندان کے افراد پر تشدد تو نہیں کرتے لیکن انھیں نفسیاتی اور جذباتی اذیت پہنچاتے ہیں۔

اس تبدیلی سے ان مقدمات کو قانونی لحاظ سے آگے بڑھانے میں مدد ملے گی جہاں کسی کو بار بار ’کنٹرول کرنے یا زور زبردستی کرنے‘ کا ثبوت موجود ہو گا۔

چیریٹی ’وومنز ایڈ‘ کا کہنا ہے کہ یہ ’لمحہ سنگِ مِیل ثابت ہو گا‘ جس سے زیادتیوں کو روکا جا سکے گا۔

اس نئے قانون کا اطلاق انگلینڈ اور ویلز میں ہوگا اور یہ ہوم آفس کی اس مشاورت کے نتیجے میں بنا ہے جس میں 85 فیصد سے زیادہ شرکا کا خیال تھا کہ موجود قانون متاثر ہونے والے شخص کو ضروری تحفظ فراہم نہیں کرتا۔

اس قانون کا نفاذ ایسے وقت ہوا ہے جب شہریوں کے لیے ایسے معاملات میں مشورہ فراہم کرنے والے ادارے کی طرف سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے پاس آنے والوں کی تعداد میں 24 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کراؤن پروسیکیوشن سروس کا کہنا ہے کہ نئے قانون کے تحت کسی کو دی جانے والی دھمکیوں کے طریقے اور نوعیت، کسی کی تذلیل یا توہین اور کسی کو ڈرانے دھمکانے جیسے معاملات قابلِ گرفت بن جائیں گے۔

نیا قانون اس وقت بھی حرکت میں آئے گا جب کسی کو سماجی روابط سے روکا جائے گا، کسی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو کنٹرول کیا جائے گا، ایپس کی مدد سے کسی کی نگرانی کی جائے گی یا کسی کو مرضی کا لباس پہننے پر مجبور کیا جائے گا۔

اسی بارے میں