سیاہ فام بچے کو ہلاک کرنے والے افسر پر مقدمہ نہیں چلے گا

تصویر کے کاپی رائٹ ABC
Image caption پولیس افسران کا کہنا تھا ان کا خیال تھا کہ رائس 12 سال سے زائد عمر کے تھے

امریکہ میں گرینڈ جیوری نے کھلونا پستول رکھنے والے 12 سالہ سیاہ فام بچے کو ہلاک کرنے والے سفید فام پولیس افسر کے خلاف مقدمہ نہ چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی ریاست اوہایو کے مقامی وکیلِ استغاثہ نے 12 سالہ تامیر رائس کی ہلاکت کی وجہ بننے والے واقعات کے سلسلے کو ’انسانی غلطیوں کا ایک کامل طوفان‘ کہا ہے۔

پولیس افسر کو قتل کیس میں بری کرنے پر ہنگامے

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس افسر کا اپنی زندگی کے لیے فکرمند ہونا سمجھ میں آنے والی بات تھی۔

اوہایو کے شہر کلیولینڈ کے پولیس حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ پُرسکون رہیں اور پُرامن طریقے سے مظاہرے کریں۔

اوہایو سے تعلق رکھنے والی سینیٹر سینڈرا ولیمز کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کی بد امنی سے صورت حال مزید خراب ہوگی تاہم اس فیصلے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ’انصاف کی گھمبیر ناکامی ہے۔‘

مذکورہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ امریکی پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام باشندوں کی ہلاکت کے واقعات پر بحث ایک قومی مباحثے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

نومبر 2014 میں جس وقت پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو رائس چھرّے والی ایک غیر مہلک پستول سے لیس تھے۔

پولیس کو ہنگامی صورت حال سے نمٹنے والے ادارے 911 سروس پر شکایت موصول ہوئی تھی کہ ایک شخص پستول لوگوں کی جانب لہراتا ہوا نظر آرہا ہے۔

ٹیلی فون کال میں کہا گیا تھا کہ وہ کھلونا پستول بھی ہوسکتی ہے اور اسے لہرانے والا ممکنہ طور پر ایک بچہ بھی ہوسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption نومبر 2014 میں جس وقت پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی تو رائس کے پاس چھرّے والی ایک غیر مہلک پستول تھی

وکیل استغاثہ مک گنٹی نے پیر کے روز گرینڈ جیوری کے فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے غلطی کا ذمہ دار ہنگامی کال کا جواب دینے والی شخصیت کو ٹھہرایا ہے جنھوں نے پولیس کو تمام تر حقائق سے آگاہ نہیں کیا تھا۔

پولیس افسران ٹموتھی لوہمین اور گارمبیک کا کہنا تھا کہ پستول بظاہر دیکھنے میں بالکل اصل شکل کا تھا اور انھوں نے تین بار رائس سے کہا تھاکہ وہ اپنے ہاتھ ہوا میں بلند کرلیں۔

رائس نے جیسے ہی اپنی کمر کی بیلٹ سے پستول نکالا لوہمین نے دو بار ان پر گولیاں چلائی تھیں۔

پولیس افسران کا کہنا تھا ان کا خیال تھا کہ رائس 12 سال سے زائد عمر کے تھے۔ واقعے کے وقت ان کا وزن 79 کلوگرام جبکہ قد پانچ فٹ سات انچ تھا۔

کھلونا پستول پر نارنجی رنگ کی وہ سیفٹی ٹِپ نہیں لگی ہوئی تھی جو عموماً کھلونا بندوقوں پر موجود ہوتی ہے۔ مک گنٹی نے کھلونا بندوقیں بنانے والی کمپینوں پر زور دیا ہے کہ وہ اصل سے ہُو بہُو مشابہت رکھنے والی بندوقیں بنانے سے گریز کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption کلیولینڈ کے پولیس حکام نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ پُرسکون رہیں اور پُرامن طریقے سے مظاہرے کریں

رائس کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے گولیاں چلانے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا تھا، انھیں بجلی کا جھٹکا دینے والے غیر مہلک ہتھیار کا استعمال کرنا چاہیے تھا۔

نگرانی کرنے والے کیمرے کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جائے وقوعہ پر پولیس کے پہنچے کے لمحوں بعد ہی لوہمین نے فائر کھول دیا تھا۔

مک گرنٹی کا کہنا ہے کہ اگر چہ کہ پولیس افسران مجرمانہ کارروائی کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں تاہم کلیولینڈ نے اس واقعے سے سبق سیکھا ہے۔

مک گرنٹی نے مزید کہا کہ ’آئندہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آنا چاہیے اور ایسے واقعات کے انسداد کے لیے شہری حکومت کی جانب اقدامات کر لیے گئے ہیں۔‘

اسی بارے میں