کرد خودمختاری کا مطالبہ بھی غداری ہے: اردوغان

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’شریک رہنما نے جو کیا ہے وہ غداری اور لوگوں کو بغاوت پر اکسانے پر مترادف ہے‘

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے کرد سیاست دان صلاح الدین دیمرتاش کی جانب سے کرد علاقے کو خودمختاری دینے کے مطالبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے غداری سے تعبیر کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’شریک رہنما نے جو کیا ہے وہ غداری ہے اور لوگوں کو بغاوت پر اکسانے کے مترادف ہے۔‘

گذشتہ ہفتے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے شریک رہنما صلاح الدین دیمرتاش اور دیگر کرد تنظیموں کے رہنماؤں نے ترکی کے کرد علاقوں کے لیے خودمختاری کا مطالبہ کیا تھا۔

ترک حکام نے ان مطالبات کی تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔

ادھر ترک فوج نے علیحدگی پسند کرد باغیوں کی جماعت پی کے کے کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ ترک فوجی حکام کے بقول تازہ جھڑپوں میں پی کے کے کے دو سو سے زیادہ جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

آئین کو چیلنج

ایچ ڈی پی نے نومبر میں ہونے والے ترکی کے عام انتخابات میں 550 میں سے 59 نشستیں حاصل کر کے تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسٹر دیمرتاش نے ایک کرد تنظیم ’دی ڈیموکریٹک سوسائٹی کانگریس‘ کے خودمختاری کے مطالبات کی حمایت کی تھی

منگل کو ترک صدر نے خودمختاری کے مطالبات پر سخت ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ کرد رہنماؤں کو عوام اور قانون کی جانب سے ’سبق سکھایا جائے گا۔‘

انھوں نے مسٹر دیمرتاش پر ترک آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ اس آرٹیکل کے تحت ان تمام سرگرمیوں پر پابندی ہے جس سے ملک کے ناقابل تقسیم ہونے کا تنظیم مجروح ہوتا ہو۔

اتوار کو مسٹر دیمرتاش نے ایک کرد تنظیم ’دی ڈیموکریٹک سوسائٹی کانگریس‘ کے خودمختاری کے مطالبات کی حمایت کی تھی۔

اس قرارداد کا متن یہ تھا کہ کردوں کی ترک حکومت کی پالیسیوں کے خلاف مزاحمت حقیقت میں خودمختاری اور جمہوریت کے لیے جدوجہد ہے۔

پے کے کے اور ترک فوج کے درمیان گذشتہ تین دہائیوں سے جاری لڑائی میں اب تک 40 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں